سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(488) یتیموں کے مال میں تصرف

  • 10860
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-03
  • مشاہدات : 581

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ان  یتیموں کے مال میں تصرف کیا جاسکتا ہے جو خود مالی معاملات کرنے میں کوتاہ ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یتیم کا ولی اس کے مال میں ایسا تصرف کرسکتا ہے  جو یتیم  کے لیے نفع اور فائدہ کا باعث ہو۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَقرَ‌بوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۚ...﴿٣٤﴾... سورةالاسراء

"اور يتيم  کے مال  کے پاس  بھی  نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ  وہ بہت ہی  پسندیدہ   یہاں تک  کہ وہ جوانی  کو پہنچ جائے ۔"

یتیم کا والی اس کے مال میں ایسا تصرف  کرسکتا ہے جس  سےئ اس کا مال بڑھے اور جس میں اس کی مصلحت ہو۔باقی رہا ایسا  تصرف جس سے مال کم ہو یا اسے نقصان پہمچے  تو یہ جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص377

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ