سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ایک ہی سورت دو رکعت میں پڑھنا

  • 108
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 777

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایک ہی سورت دو رکعات میں پڑھی جا سکتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز تراويح يا كسى دوسرى نماز ميں ايك ہى سورۃ بار بار پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں ہے، پہلى ركعت ميں ايك سورۃ پڑھى جائے اور وہى سورۃ دوسرى ركعت ميں بھى پڑھ لے اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِنَ الَّذِينَ مَعَكَ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَأُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ﴾ ... سورة المزمل: 20

کہ ’’یقینا آپ كا رب جانتا ہے كہ آپ اور آپ كے ساتھ كے لوگوں كى ايك جماعت قريب قريب دو تہائى رات، اور آدھى رات، اور ايك تہائى رات كے تہجد پڑھتے ہيں، اور رات اور دن كا پورا اندازہ اللہ تعالى كو ہى ہے، وہ خوب جانتا ہے كہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سكو گے، پس اس نے تم پر مہربانى كرتے ہوئے توبہ قبول كى، لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے ليے آسان ہو اتنا ہى پڑھو۔‘‘

ابو داود﷫ نے معاذ بن عبد اللہ الجھنى﷫ سے بيان كيا ہے كہ جہينہ قبيلہ كے اس شخص نے انہيں بتايا كہ انہوں نے سنا كہ نبى كريمﷺ نے صبح كى نماز كى دونوں ركعتوں ميں

﴿إذا زلزلت الأرض زلزالہا﴾

پڑھى، مجھے علم نہيں كہ رسول كريمﷺ نے بھول كر ايسا كيا يا كہ انہوں نے عمدا ايسا كيا؟" سنن ابو داود حديث نمبر ( 816 )علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

عبد العظيم آبادى﷫ كہتے ہيں:

’’صحابى كا اس میں تردّد كہ آيا نبى كريمﷺ نے عادت سے ہٹ كر دوسرى ركعت میں وہى سورۃ جو پہلى ركعت ميں پڑھى تھى كو دہرانا كيا غلطى سے تھا يا كہ اس كے جواز كے ليے عمدا ايسا كيا ؟ تو يہ امت كے ليے مشروع نہيں ہو گا، تو اس طرح كہ آيا وہى سورۃ دوسرى ركعت ميں دہرانى مشروع ہے يا نہیں جب اس ميں تردّد ہو تو پھر نبى كريمﷺ كا فعل مشروعيت پر محمول كرنا زيادہ اولىٰ ہے، كيونكہ نبى كريمﷺ كے افعال ميں اصل مشروعيت ہى ہے، اور نسيان اور بھول اصل كے خلاف ہے۔‘‘ ديكھيں: عون المعبود ( 3 / 23 )

نسائى﷫ اور ابن ماجہ﷫ نے ابو ذر ﷜ سے بيان كيا ہے كہ نبى كريمﷺ ايك ہى آيت پر ٹھہر گئے اور اسے بار بار دھرانے لگے: وہ آيت يہ تھى:

﴿ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾

سنن نسائى حديث نمبر ( 1010 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1350 ) علامہ البانى ﷫ نے صحيح نسائى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور امام بخارى ﷫ نے ابو سعيد خدرى ﷜ سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے ايك شخص كو بار بار ’قل ہو اللہ اَحد‘ پڑھتے ہوئے سنا تو صبح وہ رسول كريم ﷺ كے پاس آئے اور اس كا ذكر رسول كريم ﷺ كے سامنے كيا، گويا كہ وہ شخص اسے كم تصور كرتا تھا، تو رسول كريم ﷺ نے فرمايا:

« وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ »

’’اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، بلا شبہ يہ قرآن كے ايك تہائى كے برابر ہے۔‘‘

اور ايك روايت میں ہے :

’’نبى كريم﷤ كے دور ميں ايك شخص رات كى نماز میں صرف قل ہو اللہ احد ہى پڑھتا تھا اس كے علاوہ كچھ نہيں۔‘‘

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا اس سورۃ كو تكرار سے پڑھنے كو صحيح قرار ديا ہے.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5014 ).

حافظ ابن حجر ﷫ كہتے ہيں:

’’وہ پڑھنے والے شخص قتادۃ بن نعمان﷜ تھے، امام احمد﷫ نے ابى الھيثم عن ابى سعد كے طريق سے بيان كيا ہے كہ ’’قتادۃ بن نعمان﷜ سارى رات صرق قل ہو اللہ اَحد پڑھتے رہے اور اس سے كچھ زيادہ نہ پڑھا " الحديث .

اور دار قطنى نے اسحاق بن الطباع عن مالك كے طريق سے ان الفاظ كے ساتھ روايت كي ہے:

" ميرا ايك پڑوسى قيام الليل ميں صرف قل ہو اللہ احد ہى پڑھتا ہے" انتہى

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو اپنى كتاب قرآن مجيد حفظ كرنےاور اس پر عمل كرنے كى توفيق عطا فرمائے.

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ