سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(379) علماء پر تنقید

  • 10754
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-31
  • مشاہدات : 696

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آنجناب کی ان بعض نوجوانوں خصوصاً دینی طالب علموں کے بارے میں کیا رائے ہے' جن کا شیوہ ہی  یہ ہوتا  ہے کہ وہ بعض  علماء  پر تنقید کرتے 'لوگوں  کو ان سے متنفر کرتے اور ان سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کرتے  رہتے ہیں؟کیا یہ عمل  شرعی طور پر درست ہے ۔ایسا کرنے  والے کو ثواب ملے گا یا عذاب؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری رائے  میں ایسا کرنا حرام ہے'کیونکہ کسی انسان  کے لیے  جب یہ جائز نہیں ہے کہ وہ  اپنے  کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرے خواہ  وہ عالم  نہ بھی ہو تو کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے  ان مسلمان بھائیوں کی غیبت کرے جو علماء ہیں لہذا ہر مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنی زبان کو اپنے مسلمان بھائیوں کی  غیبت سے روکے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اجتَنِبوا كَثيرً‌ا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ ۖ وَلا تَجَسَّسوا وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُم أَن يَأكُلَ لَحمَ أَخيهِ مَيتًا فَكَرِ‌هتُموهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوّابٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢﴾... سورةالحجرات

"اے اہل ایمان ! بہت  گمان کرنے سے احتراز  کرو کہ بعض  گمان گناہ ہیں اور ایک  دوسرے  کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ  کوئی  کسی  غیبت کرے۔کیا  تم میں سے کوئی پسند کرےگا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی  کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم  ضرور  نفرت  کروگے(تو غیبت  نہ کرو) اور اللہ سے ڈرو بے شک  اللہ توبہ  قبول کرنے والا رحم کرنےوالا ہے۔"

اس مصیبت میں مبتلا انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب  وہ کسی عالم کو تنقید کا نشانہ  ایک شخص  پر تنقید نہیں بلکہ یہ حضرت محمد ﷺکی میراث پر تنقید ہے۔

علامئے کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں لہذا جب علامء پر طعن  وتشنیع کی جائے تو لوگ اس علم پر بھی اعتماد نہیں کریں گے'جو ان کے پاس ہے حالانکہ وہ علم  تو رسول اللہ ﷺ کی میراث  ہے اور  اس طرح  وہ گویا  شریعت کی کسی بھی ایسی چیز  کو قابل اعتماد نہیں سمجھیں گے  جس کو  یہ عالم بیان کرتا ہو' جسے طعن وتنقید کا نشانہ  بنایا گیا ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر عالم معصوم ہے ' بلکہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے ،اگر آپ اپنے  زعم میں کسی عالم کو غلطی  پر دیکھیں تو اس  سے ملیں اور تبادلہ خیال  کریں ۔اگر یہ بات واضح ہوجائے  کہ اس عالم کا موقف حق پر مبنی ہے' تو آپ  پر واجب ہے کہ اس کی اتباع کریں 'اگر یہ واضح نہ ہو کہ اس  کا موقف حق پر مبنی  ہے لیکن  اس کی بات کی بھی گنجائش ہوتو آپ کے  لیے واجب ہے کہ رک جائیں اور اگر  اس بات کی گنجائش ہی نہ ہوتو پھر اس کی بات کو قبول  کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ  غلطی مکو  برقرار رکھنا جائز نہیں ہے' لیکن آپ اس  پر  جرح نہ کریں 'خصوصاً جب کہ  وہ عالم   حسن  نیت میں معروف ہو۔اگر  ہم  حسن نیت میں معروف علماء پر مسائل فقہ  میں کسی  غلطی کی وجہ سے جرح کرنے لگیں گے' تو ہم  بڑے بڑے علماء پر جرح کر بیٹھیں گے لہذا واجب وہی ہے ' جو میں نے  ذکر کردیاہے۔ اگر آپ کسی عالم  کی کوئی غلطی محسوس  کریں  اور گفتگو اور افہام  وتفہیم  سے واضح  ہوجائے  کہ ان کا موقف درست ہے تو آپ  کو ان کی بات  مان لینی چاہیے  اور اگر آپ کا  موقف درست ثابت ہوتو  پھر انہیں آپ کی بات  تسلیم  کرلینی چاہیے اور اگر بات واضح نہ ہو اور اختلاف کی گنجائش  موجود ہو تو پھر آپ ان کو نظر انداز کردیں کہ وہ اپنی بات کہتے رہیں۔اختلاف  صرف  اسی  زمانہ میں  نہیں ہے بلکہ اختلاف  تو حضرات صحابہ کے زمانے  سے آج تک  چلا آرہا ہے،اگر  غلطی  واضح ہونے  کے بعد بھی کوئی عالم  اپنی ہی  بات پر اصرار کرے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ آپ غلطی کو واضح  کریں اور اس سے الگ ہوجائیں مگر  توہین وتذلیل اور ارادہ  انتقام کی بنیاد پر نہیں  کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس اختلافی  مسئلہ کے سوا دیگر  مسائل میں وہ حق بات کہتا ہو۔

بہرحال  میں اپنے بھائیوں کو اس مصیبت  اورا س بیماری سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور انہیں  ہرا س چیز سے شفا عطا فرمائے جو ہمارے  لیے دین  ودنیا کے اعتبار سے باعث عار  اور موجب  نقصان ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص301

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ