سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(319) آنے والے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم

  • 10676
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-24
  • مشاہدات : 928

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اندر داخل ہوا جب کہ میں بھی وہاں مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ حاضرین اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے لیکن  میں کھڑا نہ ہوا۔کیا کھڑا ہونا میرے لیے  لازم  تھا؟ کیا کھڑا ہونے  والوں کو گناہ ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آنے والے کے لیے کھڑا ہونا لازم تو نہیں ہے لیکن یہ مکارم  اخلاق میں سے ہے۔ جو شخص آنے والے  کے لیے کھڑا ہوتاکہ اس سےمصافحہ کرے اور اس کےہاتھ  کو پکڑلے' خصوصآً اگر صاحب خانہ کھڑا ہوتو یہ مکارم  اخلاق  میں سے ہے۔ نبی ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کے لیے  اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  نبی اکرمﷺ کے لیے کھڑی  ہوتی تھیں۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ  نبی اکرمﷺ کے حکم  سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ  کے لیے کھڑے ہوئے تھے'جب  کہ وہ بنو قریضہ  کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ طلحہ بن  عبیداللہ رضی اللہ عنہ  نبی اکرم ﷺ کی موجودگی  میں حضرت  کعب رضی اللہ عنہ  کے یےکھڑے ہوئے جب  اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ  کو قبول  فرمالیا تھا۔ حضرت طلحہ کھڑے ہوئے تاکہ ا سےمصافحہ کریں اور انہیں توبہ کی  قبولیت پر مبارک باد پیش کریں۔اس کے بعد وہ مجلس میں  بیٹھ  گئے تھے۔ بہرحال اس بات کا تعلق مکارم اخلاق سے ہے اور اس میں توسع ہے۔

 غلط بات یہ ہے کہ کوئی کسی کی تعظیم کے یے کھڑا ہو لیکن مہمان کے استقبال 'اس کی عزت  افزائی یا اس سے مصافحہ وسلام ے لیے کھڑا ہونا توایک امر مشروع ہے۔لوگ بیٹھے ہوں اور کسی ک اتعظیم کے لیے کھڑا ہونا یا داخل ہوتے وقت سلام و مصافحہ کے بغیر کھڑا ہونا درست نہیں ہے اور اس سے بھی غلط بات  یہ ہے کہ کسی کی تعظیم کے لیے  کھڑا ہوجائے جب کہ وہ  خود  بیٹھا ہو اور یہ حفاظت  وغیرہ نہیں بلکہ صرف تعظیم  کے لیےکھڑا ہو۔جیسا کہ علماء نے فرمایا ہے کہ کھڑے  ہونے کی تین قسمیں ہیں:

(1)  کسی کی تعظیم کے لیے کوئی کھڑا ہو جب کہ وہ بیٹھا ہو جیسا کہ عجمی لوگ اپنے بادشاہوں  اور بڑے لوگوں کی تعظیم  کے لیے کھڑے ہوتے  ہیں'جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ نے بھی بیان فرمایا ہے'تو یہ قیام جائز نہیں ہے۔یہی  وجہ ہے کہ  نبی اکرم ﷺ نے جب بیٹھ  کر نماز پڑھائی تو آپ  نے لوگوں کو حکم دیا  کہ وہ بھی  بیٹھ کر نماز پڑھیں اور جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا  کہ قریب تھا کہ تم بھی میری اس طرح تعظیم کرتے  جس طرح عجمی لوگ اپنے  سرداروں کی تعظیم کرتے ہیں۔

(2)   کسی کے آنے  یا جانے  کے وقت کھڑا ہو اور اس سے مقصود سلام یا مصافحہ  کےلیےکھڑا  ہونا نہ ہو بلکہ محض تعظیم  کے لیے  کھڑا ہونا ہو۔اس صورت کے بارے میں کم سے کم جو بات  کہی جاسکتی ہے'وہ یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے۔ نبی ﷺ جب تشریف  لاتے تو حضرات صحابہ کرام کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ انہیں معلوم  تھا کہ نبی ﷺ اس کوپسند نہیں فرماتے۔

 آنےوالے کے سامنے اس لیے  کھڑا  ہو تاکہ اس سے مصافحہ کرے یا اس کے ہاتھ کوپکڑ کر اسے اس کی جگہ  بٹھادے یا اس طرح کا کوئی  اور مقصد ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اکابر اور ان مہمانوں کے لیے کھرا ہونا تو سنت ہے' جن کے لیے کھڑا ہونے کی ( ان کی مجبوری ومعذوری کی وجہ سے) ضرورت ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص246

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ