سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(314) اپنی بیوی کے پاس رہو اور اپنے اہل سے تعلق قطع نہ کرو

  • 10671
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-24
  • مشاہدات : 545

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
چار ماہ ہوئے میں نے اپنے چچا کی بیٹی  سے شادی کی اور ہم اپنے خاندان کے گھر میں اکھٹے رہ رہے ہیں۔ایک دن  میری بیوی  اور دیگر گھر والوں  میں کچھ غلط فہمی  پیدا ہوگئی 'جس کی وجہ سے وہ اپنے  باپ کے گھر چلی گئی اور اب اس نے یہ مطالبہ  شروع کردیا ہے کہ ہم  اپنی رہائش الگ کرلیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔یا پھر ہم اس کے  باپ کے گھر  میں سکونت اختیار کرلیں اور میں اپنے گھر والوں  سے بھی تعلقات قائم رکھوں اور ہمیشہ  ان کی خبر گیری  بھی کرتا رہوں۔ میں نے  اس تجویز کو جب اپنے گھر والوں کے سامنے پیش کای تو انہوں نے اسے مسترد کردیا اور اصرار کیا کہ میں ان کے ساتھ ہی رہوں۔اگر میں ان کے اصرار کے باوجود انکار کردوں اور اپنی بیوی کے ساتھ  اس کے باپ  کے گھر کے ایک حصہ میں سکونت  اختیار کرلوں تو کیا اس میں گناہ ہوگا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چار ماہ ہوئے میں نے اپنے چچا کی بیٹی  سے شادی کی اور ہم اپنے خاندان کے گھر میں اکھٹے رہ رہے ہیں۔ایک دن  میری بیوی  اور دیگر گھر والوں  میں کچھ غلط فہمی  پیدا ہوگئی 'جس کی وجہ سے وہ اپنے  باپ کے گھر چلی گئی اور اب اس نے یہ مطالبہ  شروع کردیا ہے کہ ہم  اپنی رہائش الگ کرلیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔یا پھر ہم اس کے  باپ کے گھر  میں سکونت اختیار کرلیں اور میں اپنے گھر والوں  سے بھی تعلقات قائم رکھوں اور ہمیشہ  ان کی خبر گیری  بھی کرتا رہوں۔ میں نے  اس تجویز کو جب اپنے گھر والوں کے سامنے پیش کای تو انہوں نے اسے مسترد کردیا اور اصرار کیا کہ میں ان کے ساتھ ہی رہوں۔اگر میں ان کے اصرار کے باوجود انکار کردوں اور اپنی بیوی کے ساتھ  اس کے باپ  کے گھر کے ایک حصہ میں سکونت  اختیار کرلوں تو کیا اس میں گناہ ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آدمی کے گھر والوں اور اس کی بیوی  کے درمیان اس طرح کے اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اس صورت حال  میں چاہیے کہ آدمی  اپنے گھر والوں اور بیوی کے مابین  مقدور  بھر کوشش کرکے صلح کرادے  اور جو شخص ظلم  وزیادتی   کرنے والا ہواسے  سرزنش کرے  اوراحسن انداز  میں سمجھادے   تاکہ   فریقین  میں الفت ومحبت پیدا ہوجائے'کیونکہ الفت ومحبت ہی سراپا خیر ہے۔اگر صلح کی کوئی صورت  پیدا نہ ہوسکے تو پھر  الگ سکونت  اختیار  کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اس میں  سب کے لیے اصلاح اور منفعت  ہوتی ہے کہ اس  سے ایک دوسرے کے دل سے کدورت  جاتی رہتی ہے۔الگ سکونت اختیار کرنے  کی صورت میں انسان  کو اہلخانہ  سے قطع  تعلق  نہیں کرنا بلکہ ان سے  ملتے جلتے رہنا چاہیے۔ بلکہ وہ جس گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ سکونت پذیر  ہو اگر وہ اس کے اہل خانہ  کے گھر سے قریب  ہو تو زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس سے ملنے جلنے  اوران سے تعلق رکھنے  میں سہولت ہوگی۔اگر  ایک ہی جگہ  سکونت  رکھنے میں سب کے لیے دشواری  ہو تو پھر الگ  رہائش اکتیار کرنا زیادہ بہتر ہے' بشرطیکہ وہ اپنی  بیوی اور  اپنے  تمام اہل  خانہ  کے حقوق  ادا کرتا رہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص242

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ