سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(313) افضل یہ ہے کہ والدین کے لیے دعا کرو

  • 10670
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-24
  • مشاہدات : 641

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر میں اپنی ماں کی طرف سے نیت  کرکے صدقہ  کروں تو کیا یہ جائز ہے؟ کیا اس صدقہ کا اسے ثواب پہنچے گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر میں اپنی ماں کی طرف سے نیت  کرکے صدقہ  کروں تو کیا یہ جائز ہے؟ کیا اس صدقہ کا اسے ثواب پہنچے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں یہ جائز ہے کہ انسان اپنے فوت شدہ والدین  کی طرف سے صدقہ  کرے جس کی طرف صدقہ  کیا جائے اسے اس کا ثواب پہنچ جاتا ہے۔اس کی دلیل  صحیح بخاری  کی یہ حدیث ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا 'یارسول اللہ ! میری والدہ کا اچانک  انتقال ہوگیا ہے' انہیں اگر بات کرنے کا موقع ملتا تو  وہ ضرور صدقہ کرتیں۔کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس طرح نبی ﷺ نے سعد بن عبادہ  رضیاللہ عنہ  کو اجازت دی  تھی کہ  وہ مدینہ میں اپنے  کھجور کے باغ کو اپنی ماں کی وفات  کے بعد ان کی طرف سے صدقہ  کردیں۔ لیکن افضل یہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کےلیے دعا کرے  اور نیک اعمال اپنے ثواب  کے لیے کرے کیونکہ سلف  سے یہی منقول ہے'بلکہ نبی ﷺ کا یہ ارشاد بھی اس پر دلالت کرتا ہے:

((اذا مات  الانسان انقطع عنه عمله الا من ثلاثة:الامن  صدقة جارية‘ او علم  ينتفع به ‘او ولد صالح يدعوا له )٩) (صحيح مسلم ّالوصية‘باب ما يلحق الانسان من الثواب  بعد  وفاته‘ح:١٦٣١)

"انسان جب فوت  ہوجاتا ہے تو تین کے سوا اس کا ہر عمل منقطع ہوجاتا ہے (1) جو اس نے صدقہ جاریہ کیا ہو

(2) یا اس نے جو علم نافع چھوڑا ہو۔(3) یا س کا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا ہو۔"

لیکن اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ انسان اپنے ماں باپ کی وفات  کے بعد کچھ  نیک اعمال ان کی طرف سے نیت کرتے ہوئے ادا کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص241

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ