سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(299) اولاد میں ترجیح

  • 10656
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-23
  • مشاہدات : 540

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیاعورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے کسی ایک بیٹۓ سے زیادہ گرم جوشی سے پیش آئے' جب کہ اس کے  تمام بیٹے اس سے یکساں معاملہ کرتے ہوں یا اپنے پوتوں میں سے کسی ایک سے ترجیح کا سلوک  کرے جب کہ وہ سب اس  سے یکساں معاملہ کرتے ہوں راہنمائی فرمائیں ۔جزاكم الله  خيراً

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاعورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے کسی ایک بیٹۓ سے زیادہ گرم جوشی سے پیش آئے' جب کہ اس کے  تمام بیٹے اس سے یکساں معاملہ کرتے ہوں یا اپنے پوتوں میں سے کسی ایک سے ترجیح کا سلوک  کرے جب کہ وہ سب اس  سے یکساں معاملہ کرتے ہوں راہنمائی فرمائیں ۔جزاكم الله  خيراً


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

والدین  کو چاہیے کہ  وہ اولاد میں عدل کریں اور ایک دوسرے کو عطیہ ' تحفہ اور ہدیہ وغیرہ  میں ترجیح نہ دیں،۔لیونکہ نبیئ ﷺ نے فرمایا ہے:

((اتقوالله  واعدلوا بين اولادكم )) (صحيح البخاري ‘الهبة ‘باب الاشهاد  في الهبة ‘ ح : ٢٥٨٧ وصحيح مسلم ‘الهبات ‘باب كراهة تفضيل بعض الاولاد في الهبة‘ ح: ١٦٢٣)

"اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد  میں عدل وانصاف کرو۔"

آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ  اگر تم یہ چاہتے  ہو  کہ تمہارے تمام بچے نیکی اور بھلائی میں تم  سے یکساں  سلوک کریں' تو تم  بھی ان کے ساتھ  مساوی سلوک کرو۔اکابر علماء بیٹوں  میں مساوات کو مستحب سمجھتے تھے حتیٰ کہ وہ بو سے 'خندہ پیشانی سے  پیش آنے والے  اور خوش آمدید کہنے  میں بھی سب سے مساوی سلوک  کرتے تھے ' کیونکہ اولاد  میں عدل وانصاف کے حکم  کا بظاہر  یہی تقاضہ ہے ۔البتہ  بعض حالتوں میں کمی  بیشی  معاف ہے  کیونکہ باپ بسا اوقات ازراہ  شفقت  چھوٹے بچے  کو یا بیمار بیٹے کو  دوسروں پر ترجیح دے دیتا ہے' ورنہ اصل تو یہی  ہے کہ تمام معاملات  میں بچوں سے یکساں سلوک کیا جائے خصوصاً جب کہ وہ سب نیکی 'بھلائی اور اطاعت وفرماں برداری وغیرہ کرنے میں برابر ہوں،

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص233

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ