سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(279) گناہ کے کام میں تعاون جائز نہیں

  • 10636
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-19
  • مشاہدات : 821

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا باپ سگریٹ نوشی کرتا ہے اور وہ مجھے  حکم دیتا ہے کہ میں  بازار  سے اس کے لیے سگریٹ خرید لاؤں توکیا میں ان کے اس حکم کی اطاعت کروں؟  اطاعت  کرنے کی صورت میں کیا مجھے بھی گناہ ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ  ان کا حکم نہ ماننے کی صؤرت میں  بھی کئی مشکلات  پیدا ہوسکتی ہیں۔راہنمائی فرمائیں۔ جزاكم الله  خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے والد کے لیے واجب یہ ہے کہ  وہ سگریٹ نوشی  ترک کردیں'کیونکہ اس کے بہت  زیادہ نقصانات  ہیں اور پھر یہ  ان ناپاک چیزوں  میں سے ہے 'جن کی حرمت کا  اللہ تعالیٰ نے اپنے  نبیﷺ کے حوالہ سے درج ذیل  آیت میں ذکر  فرمایا ہے :

﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيهِمُ الخَبـٰئِثَ ...﴿١٥٧﴾... سورةالاعراف

"اور وہ (رسول اللہ ﷺ) پاک چیزوں کو ان کے لیے طلب  کرتے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہراتے ہیں۔"

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے صرف پاک چیزوں کو حلال کای ہے'جیساکہ  سورۃ الاعراف  کی اس (مذکورہ) آیت  اور سورۃ المائدہ(کی حسب ذیل آیت) میں ہے:

﴿يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم ۖ قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ...﴿٤﴾... سورةالمائدة

"آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں؟آپ (ان سے ) کہہ دیجیے کہ سب  پاکیزہ  چیزیں  تمہارے لیے حلال ہیں۔"

ان آیات  میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے یے صرف  پاک چیزوں ہی کو حلال  قراردیاہے 'جب کہ سگریٹ  پاک  چیزوں میں سے نہیں ہے'بلکہ یہ ناپاک اور نقصان دہ چیزوں میں سے ہے'لہذا آپ کے والد  صاحب اور سگریٹ نوشی  کرنے  والے  تمام لوگوں  پر واجب  ہے  کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے  توبہ کریں اور سگریٹ  نوشوں  کے ساتھ  میل جول  نہ رکھیں ۔آپ  کے لیے  یہ جائز  نہیں کہ اپنے  والد  کے ساتھ  سگریٹ یا گناہ  کے کسی اور کام میں تعاون  کریں 'کیونکہ ارشاد  باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ ﴿٢﴾... سورةالمائدة

"اور تم  نیکی  اور پرہیز گاری  کے کاموں میں ایک  دوسرے  کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم  کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ  سے ڈرتے  رہو۔بلاشبہ  اللہ سخت سزا(دینے ) والا ہے۔'

اس  آیت  کے پیش نظر  آپ کے  بھائیوں اور چچاؤں۔۔۔اگر  آپ کے بھائی  اور چچاہوں ۔۔۔۔پر واجب  ہے کہ  وہ آپ کے والد  کو سمجھائیں اور سگریٹ نوشی  سے باز  رکھیں۔نبی ﷺ نے بھی فرمایا :

((الدين النصيحة قلنا : لمن ؟ قال : لله ولكتابه ولرسوله ولائمة المسلمين  وعامتهم )) (صحيح مسلمم ‘الايمان ‘باب بيان  ان الدين  النصيحة‘ ح: ٥٥)

"دین ہمدردی  اور خیر خواہی کا نام ہے۔ہم نے عرض کیا: کس  کے لیے ؟ آپ  نے فرمایا :اللہ کے لیے 'اس  کی کتاب کے لیے 'اس کے رسول  کے لیے 'مسلمان  حکمران کے لیے ان کے عوام کے لیے ۔"

میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے والد  کو نیکی کی توفیق عطا فرمائے'اس گناہ سے  اور دیگر  تمام  گناہوں سے  توبہ  کرنے  کی توفیق عطا فرمائے  اور آپ  کو  ان کے ساتھ  نیکی کے کاموں  تعاون  کرنے والوں میں سے بنادے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص220

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ