سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(271) یہ بھی نیکی ہے کہ والدہ کو۔۔۔۔

  • 10629
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-19
  • مشاہدات : 566

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

والد کی وفات کے بعد اب  والدہ ہمارے ساتھ گھر میں مقیم ہیں۔ میری والدہ ناخواندہ ہیں جب انہیں اذکار  یاچھوٹی سورتیں ہاد کرائیں تو وہ انھیں صحیح طعر پر یاد نہیں کرسکتیں یا انہیں سمجھ نہیں سکتیں۔لیکن اس کے باوجود وہ فرض اور نفل  وروزہ کی پابند ہیں لہذا سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا سب  سے کامیاب طریقہ کیا ہے  جس کی وجہ سے ان کے ساتھ نیکی کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا اور  خوش نودی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکے 'راہنامئی فرمائیں۔اللہ تعالیٰ اپ کو اجر  وثواب  سے نوازے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ پر واجب ہے کہ اپنی والدہ کے ساتھ  شرعاً اور عرفاً نیکی کریں۔ شرعاً نیکی کرنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آپ  انہیں وہ قولی  اور فعلی  عبادات سکھادیں' جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب قراردیا ہے لیکن نہایت  نرمی  کے ساتھ سکھائیں۔ان کے ساتھ کچھ کوتاہی بھی ہو تو درگزر کریں کیونکہ بسا اوقات معمولی کوتاہی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ماں کسی وجہ سے ناراض  ہوں یا ڈانٹ ڈپٹ کریں تو اسے برداشت کریں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ وہ تھوڑے  وقت میں درجہ کمال تک  پہنچ  جائیں۔کیونکہ جو کمال تک پہنچنے کا ارادہ کرے  تو اسے  صبر کے ساتھ انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہےاور اسی صورت   میں اللہ  تعالیٰ کے حکم سے اسے کمال حاصل ہوتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص214

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ