سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(266) گھر سے نکلنے سے پہلے اجازت لے لو

  • 10624
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-19
  • مشاہدات : 655

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا والدین کی اطاعت ہر کام  میں ضروری ہے' یعنی مثلاً گھر  سے نکلتے اور کام کاج کے لیے جانے کے وقت  بھی ان سے اجازت لینا ضروری ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

والدین کی اطاعت واجب ہے' بشرطیکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا کسی  واجب  عبادت کا ترک لازم نہ آتا ہو کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَنهَر‌هُما وَقُل لَهُما قَولًا كَر‌يمًا ﴿٢٣ وَاخفِض لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّ‌حمَةِ وَقُل رَ‌بِّ ار‌حَمهُما كَما رَ‌بَّيانى صَغيرً‌ا ﴿٢٤﴾... سورةالإسراء

’’اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب ے ساتھ کرنا اور عجز ونیاز سے ان کے آگے جھکے  رہو اور ان کے حق  میں دعا کرو کہ اے پروردگار! جیسے انھوں نے  میری بچپن میں(شفقت سے) پرورش کی  ہے تو بھی ان (کےحال) پر رحمت فرما۔‘‘

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَوَصَّينَا الإِنسـٰنَ بِو‌ٰلِدَيهِ حُسنًا ۖ وَإِن جـٰهَداكَ لِتُشرِ‌كَ بى ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ فَلا تُطِعهُما ۚ...﴿٨﴾... سورةالعنكبوت

’’اور  ہم نے  انسان  کو اپنے ماں باپ  کے ساتھ  نیکی  کرنے  کی وصیت کی'اگر وہ تیرے ساتھ  کوشش کریں(تجھ  پر دباؤ ڈالیں) کہ  تو میرے  ساتھ  اس چیز کو  شریک ٹھرائے'جس کا تجھے  کوئی علم نہیں 'تو ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘

نیکی یہ ہے کہ والدین کی خدمت  کی جائے ' حسب مقدور ان کے حکم کو مانا جائے اور ان پر  شفقت  ورحمت  کی جائے ۔ سفر  غیر واجب مثلاً نفل  جہاد ' سفر  تجارت  یا سفر  سیاحت  کے لیے ان کےسے اجازت لینا بھی نیکی  میں داخل ہے اور اگر سفر واجب ہو ۔مثلاً دفاع کے لیے جہاد یا دیگر  تمام شرطیں مکمل ہونے کی صورت میں فرض  حض کے لیے سفر اور واجب طلب  علم کے لیے سفر تو اس کے لیے ان کی اجازت  کے بغیر  گھر سے نکلنا بھی جائز ہے' مگر افضل یہی ہے کہ والدین  کو قائل کیا جائے اور ان کے سامنے مصلحت اور اس سفر کے حکم  کو بیان کیا جائے تاکہ  ان کی رضامندی  بھی حاصل کی جاسکے ۔نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

((رضا الرب  في رضا الوالد  وسخط  الرب  في سخط الوالد )) ( جامع الترمذي ‘البر  والصلة ‘باب ماجاء من الفضل  في رضا الوالدين ‘١٨٩٩)

’’رب کی رضا  والد کی رضا میں ہے  اور  رب  کی ناراضی  میں ہے۔‘‘

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص209

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ