سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(258) یہ دعا غیر مقبول ہے

  • 10616
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-18
  • مشاہدات : 477

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
: میں نفل روزے رکھتی ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ میری ان  غلطیوں اور لغزشوں  کو معاف فرمادے  جو میرے علم کے بغیر مجھ سے صادر ہوتی رہتی ہیں۔الحمدللہ! میں دینی احکام  کی پابند ہوں 'لیکن (عجیب بات یہ ہے کہ) میری والدہ یہ دعا کرتی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ روزوں کو قبول نہ فرمائے۔مجھے معلوم نہیں کہ وہ یہ دعا کیوں کرتی ہیںِ حالانکہ  میرے یہ روزے  گھر کے کام کاج پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتے۔ میری والدہ  میری محتاج  بھی نہیں ہیں'لیکن ان کی اس دعا کی وجہ سے میں بہت حیران وپریشان ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے روزوں کو قبول فرمائے گا بھی یا نہیں کیونکہ والدین کی دعا تو قبول ہوتی ہے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

: میں نفل روزے رکھتی ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ میری ان  غلطیوں اور لغزشوں  کو معاف فرمادے  جو میرے علم کے بغیر مجھ سے صادر ہوتی رہتی ہیں۔الحمدللہ! میں دینی احکام  کی پابند ہوں 'لیکن (عجیب بات یہ ہے کہ) میری والدہ یہ دعا کرتی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ روزوں کو قبول نہ فرمائے۔مجھے معلوم نہیں کہ وہ یہ دعا کیوں کرتی ہیںِ حالانکہ  میرے یہ روزے  گھر کے کام کاج پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتے۔ میری والدہ  میری محتاج  بھی نہیں ہیں'لیکن ان کی اس دعا کی وجہ سے میں بہت حیران وپریشان ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے روزوں کو قبول فرمائے گا بھی یا نہیں کیونکہ والدین کی دعا تو قبول ہوتی ہے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ جو عبادات اور نفل روزوں کا اہتمام فرماتی ہیں' ہم اسے بنظر تحسین  دیکھتے ہیں۔آپ حتی المقدور انہیں بجا لاتی رہیں اور اپنی والدہ سے معذرت کریں کہ روزہ  ایک نیک عمل ہے اور جب  یہ آپ  کے ساتھ  نیکی،آپ کی خدمت اور آپ کے  حقوق ادا کرنے سے  نہیں روکتا تو آپ اس سے منع نہ کریں'بلکہ آپ کے لیے واجب  یہ ہے کہ آپ مجھے اس کی ترغیب  دیں' بلکہ ممکن  ہو تو آپ خود بھی نفل روزے رکھیں' کیونکہ  درجات کی بلندی اور  گناہوں کے کفارہ  کے لیے اسے بھی نفل نماز  وروزہ  اور عبادت کی زیادہ ضرورت ہے۔آپ  نے اپنی  والدہ  کی دعا کا جو ذکر کیا ہے تو امید ہے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ روزہ تو ایک بہت اچھا اور  صالح عمل ہے۔مولوم ہوتا ہے کہ اس دعا سے ان کا مقصود آپ پر رحمت وشفقت ہی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص203

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ