سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(257) نماز میں خالص دنیوی امور کے لیے دعا

  • 10615
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-18
  • مشاہدات : 409

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا نماز میں  خالص دنیوی امور کے لیے دعا کرنا جائز ہے؟ یہ دعا کس طرح کی  جائے یعنی  کیا یہ بہتر  ہے کہ انسان نماز کے ختم ہونے کے بعد دعا کرے یا تشہد  اول کے  بعد دعا کرے یا سجدوں میں دعا کرے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نماز میں  خالص دنیوی امور کے لیے دعا کرنا جائز ہے؟ یہ دعا کس طرح کی  جائے یعنی  کیا یہ بہتر  ہے کہ انسان نماز کے ختم ہونے کے بعد دعا کرے یا تشہد  اول کے  بعد دعا کرے یا سجدوں میں دعا کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دنیوی امور مثلاً محض دنیوی خواہشات' کثرت مال اور  خوبصورت  بیوی وغیرہ  کے بارے میں نماز میں دعا کرنا جائز نہیں ہے'ہاں البتہ  اگر زندگی  کے ان  ضروری امور کی اسے  اس لیے  ضرورت ہو تاکہ دینی امور میں ان سے کام لے سکے مثلاً ایسی دعا سے مقصود عفت وعصمت کی حفاظت  'لوگوں سے بے نیازی  اور اپنے چہرے کو لوگوں کے سامنے ذلیل ہونے سے  بچانا ہو تو پھر ایسی دعا نماز کے اندر اور باہر دونوں طرح جائز ہے۔ فرض نمازوں کے بعد  مسنون یہ ہے کہ ان اذکار کو پڑھا جائے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔ فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔آخری  تشہد  اور سجدوں میں دعا مانگنا مسنون ہے اور یہ قبولیت  دعا کے مقامات ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص203

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ