سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(255) بچوں کو بددعا دینا

  • 10613
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-18
  • مشاہدات : 510

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب  بچوں سے کوئی  غلطی  یا  لغزش ہوجائے'تو  بہت والدین انہیں بددعا دینے  لگ جاتے ہیں۔امید ہے کہ اس حوالہ  سے آپ ان کی رہنمائی  فرمائیں گے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب  بچوں سے کوئی  غلطی  یا  لغزش ہوجائے'تو  بہت والدین انہیں بددعا دینے  لگ جاتے ہیں۔امید ہے کہ اس حوالہ  سے آپ ان کی رہنمائی  فرمائیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہم والدین  کو یہ نصیحت کریں گے کہ ان  اولاد سے بچپن میں جب کوئی  کوتاہی  ہوجائے'تو معاف کردیں اور درگزر سے  کام لیں اور اگر وہ کوئی  ناشائستہ  گفتگو کریں یا کسی  اور طرح سے تکلیف دیں تو صبر  کریں کیونکہ  بچے  عقل  کے کچے ہوتے ہیں'قول  وفعل  میں ان  سے غلطی  ہوتی رہتی  ہے۔باپ  اگر حلیم ہوگا'بچے کی غلطی کو معاف  کردے گا اور اسے  نرمی 'محبت اور شفقت سے سمجھائے گا'تو بچہ  بھی اسے یقیناً قبول  کرکے مؤدب  بن جائے گا'لیکن  عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ بچوں کی  غلطی  تو چھوٹی ہوتی ہے مگر اس کے مقابلہ میں والدین بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ اپنے بچوں  کے لیے موت' بیماری  یا آفتوں اور مصیبت کی بددعائیں کرنے لگتے ہیں اور پھر بڑی کثرت کے ساتھ اس طرح کی بددعائیں کرتے ہیں'لیکن جب  ان کا غصہ فرو ہوتا ہے تو انہیں افسوس ہوتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس بھی  اور وہ اعتراف کرنے لگتے ہیں کہ وہ  ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کی  یہ بددعائیں قبول ہوں 'کیونکہ  پدری محبت  وشفقت کا تقاضہ یہی ہوتا ہے اور انہوں نے جو  بددعا دی تھی تو یہ شدت غضب کی وجہ سے  تھی 'اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے'ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَو يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنّاسِ الشَّرَّ‌ استِعجالَهُم بِالخَيرِ‌ لَقُضِىَ إِلَيهِم أَجَلُهُم ۖ... ﴿١١﴾... سورة يونس

"اوراگر اللہ  لوگوں کی برائی میں جلدی  کرتا  جس طرح وہ طب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی تھی۔"

والدین کے لیے واجب  ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیںاور مار پیٹ کر بچوں کو ادب سکھا لیا کریں'کیونکہ بچہ تادیب  وتعلیم کی نسبت مارپیٹ سے  زیادہ  اثر قبول  کرتا ہے۔ جہاں  تک  بددعا ء کا تعلق  ہے تو اس سے  اسے نہ کوئی  فائدہ  ہوتا ہے اور نہ اسے  یہ معلوم  ہوتا  ہے کہ اس کے بارے  میں کیا کہا جارہا ہے'لہذا جو  والد  نے  کہا  ہوگا وہ اس  کے ذمہ  لکھا جائے  گا اور بچے کو اس سے قطعاً کوئی فائدہ  نہیں  ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص201

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ