سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(254) دعا میں ہاتھوں کو اٹھانا اور قبلہ کی طرف منہ کرنا

  • 10612
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-18
  • مشاہدات : 391

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 کیا یہ قبولیت دعا کی  شرطوں میں سے ہے کہ ہاتھوں  کو اٹھالیا جائے اور منہ  قبلہ رخ  کیا جائے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا یہ قبولیت دعا کی  شرطوں میں سے ہے کہ ہاتھوں  کو اٹھالیا جائے اور منہ  قبلہ رخ  کیا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بوقت دعا دونوں ہاتھوں کو اٹھانا اور منہ قبلہ رخ کرنا سنت  مؤکدہ ہے۔قبلہ  سب  سے افضل جہت ہے لیکن  قبولیت دعا کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ ہاتھوں کو ضرور اٹھا یا جائے اور منہ قبلہ رخ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ مخلص مسلمان کی  دعا کو شرف قبولیت سے ضرور نوازتا ہے خواہ  وہ ہاتھوں کو نہ اٹھائے اور قبلہ  کی طرف منہ  نہ بھی کرے اور یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ  کو ہاتھوں کو اٹھاکر اور قبلہ  رخ  ہو کر دعا  کرے  گا 'اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو  ضرور  قبول فرمالےگا'کیونکہ  قبولیت سے کئی  اور امور بھی مانع ہوسکتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص201

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ