السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس شخص کے با ر ے میں کیا حکم ہے جو جمعہ کے دن اس وقت غیر شعو ری طو ر پر با ت کر ے جب خطیب خطبہ دے رہا ہو ؟ مثلاً کسی دوست نے سلا م کہا تو جوا ب میں سلا م علیک کہہ دیا دیکھا کہ قر یب ہی بچے با تیں کر رہے ہیں تو ان سے کہو کہ خا مو ش ہو جا ؤ ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ دے رہا ہو خطیب کو سننے اور خطبہ کی طرف متو جہ ہو نے کی وجہ سے خا مو ش ہو نا ضر وری اور اس وقت کلام کر نا حرا م ہے خوا ہ یہ کلا م امر با المرو ف ہی کے لئے کیو ں نہ ہو نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ہے :
(اذا قلت لصاحبك انصت يوم الجمعة والامام يخطب فقد لغوت)(صحیح بخا ری )
"جب خطیب خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے سا تھی سے یہ کہو کہ خا مو ش ہو جا ؤ تو یہ بھی تم نے لغو کا م کیا ۔ " فضو ل کا م کر نا زمین یا دری اور چٹائی وغیرہ کو اس وقت درست کر نا بھی حرا م ہے حدیث میں آیا ہے :
ومن مس الحصي فقد لغا(صحیح مسلم )
" جس نے کنکر ی کو چھو ا اس نے بھی لغو کا م کیا ۔لیکن امام مستثنیٰ ہے اس کے لئے یہ جا ئز ہے کہ جمعہ کے لئے آنے وا لو ں سے با ت کرے یا جمعہ پڑ ھنے وا لو ں میں سے کو ئی بوقت ضرو رت امام سے با ت کر ے امام کے علا وہ کسی دوسر ے کے لئے با ت کر نا یا کسی دوسر ے سے مخا طب ہو نا جا ئز نہیں اگر کو ئی تمہیں سلام کا اشا رہ سے جوا ب دو اسی طرح بچو ں کو بھی اشا رہ سے خا مو ش کر اؤ با ت نہ کر و اگر کو ئی شخص ازراہ جہا لت با ت کر ے تو وہ معذور ہے اگر کو ئی مذکو رہ وعید کو جانتے ہو ئے دانستہ با ت کر ے تو وہ خط کا ر ہے لیکن اسے یہ حکم نہیں کہ وہ نماز کو دوہرا ئے ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب