السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب ہوا ئی جہا ز میں محو پروا ز ہو ں اور نما زکا وقت ہو جا ئے تو کیا تیا رہ میں نما ز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب نماز کا وقت ہو جا ئے اور طیا رہ محو پروا ز ہو اور کسی ایئرپورٹ پر طیا ر ہ کے اتر نے سے قبل نماز کے وقت کے ختم ہو جا نے کا اندیشہ ہو تو اہل علم کا اجما ع ہے کہ نما ز کو وقت پر بقدر استطا عت رکوع سجو د استقبا ل قبلہ کے ساتھ ادا کر نا وا جب ہے کہ ارشا د با ر ی تعالیٰ ہے
﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا استَطَعتُم ...﴿١٦﴾... سورةالتغابن
"سو جہا ں تک ہو سکے تم اللہ سے ڈرو۔"
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے کہ :
(اذا ا مرتكم بامر فاتوا نه ما استطتم)(صحیح مسلم )
"جب میں تمہیں کو ئی حکم دوں مقدور بھر اس کی اطاعت بجا لا ؤ ۔"
اگر یہ معلو م ہو کہ طیا ر ہ نماز کا وقت ختم ہو نے سے پہلے ایئرپو رٹ پر اتر جائے گا یا نماز ایسی ہو کہ اسے جمع کر کے پڑ ھا جا سکتا ہو مثلاً ظہر و عصر اور مغر ب و عشا ء کو یکجا کر کے پڑھا جا سکتا ہے اور معلو م ہو کہ طیا رہ ان میں سے دوسر ی نماز کے وقت کے ختم ہو نے سے پہلے ایئر پو رٹ پر اتر جائے گا اور دو نو ں نماز وں کے پڑ ھنے کےلئے کا فی وقت مل جا ئے گا تو پھر بھی جمہو ر اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ انہیں طیا رے میں ادا کر نا جا ئز ہے کہ یہ حکم ہے جو نہی نماز کا وقت شروع ہو جا ئے مقدور بھر کوشش کے مطا بق اسے ادا کیا جا ئے جیسا کہ قبل ازیں بیا ن کیا جا چکا ہےاور اس مسئلہ میں یہی قو ل درست ہے
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب