سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مسافر امام کا مقیم لوگوں کو نماز پڑھانا

  • 10536
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-10
  • مشاہدات : 514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا مسا فر امام کے لئے یہ جا ئز ہے کہ وہ مقیم لو گو ں کو نما ز پڑھائے ؟ اور امام کے نما ز کو قصر کر نے اور جمع کر کے پڑھنے کی صورت میں مقتدی کس  طر ح کر یں گے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسا فر امام کے لئے یہ جا ئز ہے کہ وہ مقیم لو گو ں کو نما ز پڑھائے ؟ اور امام کے نما ز کو قصر کر نے اور جمع کر کے پڑھنے کی صورت میں مقتدی کس  طر ح کر یں گے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر مسا فر اما مت کا اہل ہو تو وہ مقیم لو گو ں کو نما ز پڑ ھا سکتا ہے جب نما ز ایسی ہو جس میں مسا فر کو  قصر کی رخصت ہو اور امام اس رخصت سے فا ئدہ اٹھا ئے تو مقتدی امام کے فا ر غ ہو نے کے بعد اپنی نماز کو پو را کر لیں اور وہ نما ز جس میں مسا فر کو جمع کی اجازت ہو تو وہ جمع کر لے گا مقتدی اپنی نما زو ں کو جمع نہیں کر یں گے کیو نکہ جمع کر نے کی رخصت تو صرف مسا فر کے لئے ہے مقیم مقتدیوں کے لئے نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے با ر ے میں یہ ثا بت ہے کہ آپ جب مکہ مکر مہ میں تشر یف لا تے تو دور رکعا ت پڑھا تے اور پھر فر ما تے :

(يا اهل مكه ائموا صلاتكم فاذا قوم سفرا)(موطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ )

"اے مکہ والو !تم اپنی نماز کو مکمل کر لو  ہم تو مسا فر لو گ ہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص515

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ