سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

بدعتی اور کپڑے کو نیچے لٹکانے والے کی امامت

  • 10512
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-10
  • مشاہدات : 369

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اس شخص کے پیچھے نماز صحیح ہے جو بدعتی اور کپڑے کو نیچے لٹکانے والا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء کے صحیح قول کے مطابق بدعتی کپڑے کو ٹخنوں سےنیچے لٹکانے والے اور دیگر گناہ گاروں کے پیچھے نماز صحیح ہے۔بشرط یہ کہ بدعت کفر تک پہنچانے والی نہ ہواور اگر بدعت کفر تک پہنچانے والی ہو جیسے جہمیہ وغیرہ بدعتی ہیں جو اپنی کفریہ بدعات کے باعث دائرہ اسلام ہی سے خارج ہیں تو ان کے پیچھے نماز صحیح نہیں ہے۔لیکن زمہ دار اصحاب پر یہ واجب ہے کہ امامت کے لئے ایسےلوگوں کو منتخب کریں جو بدعت اور فسق وفجور سے پاک ہوں اور اچھے سیرت واخلاق کے مالک ہوں کیونکہ امامت ایک عظیم امانت ہے۔ اما م مسلمانوں کا قائد ہوتا ہے۔ لہذا اگر اچھے لوگوں کو امامت پر فائز کرنا ممکن ہو تو اہل بدعت وفسق کو امام نہیں بنانا چاہیے!

کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا بھی گناہ ہے۔اس سے اجتناب کرنا واجب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ما اسفل من الكعبين من الازار فهو في النار (صحيح بخاري)

ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم کی آگ میں ہوگا۔''

لباس کی تمام قسموں قمیص شلوار اور  پینٹ وغیرہ کا ہی حکم ہے جو ازار کا ہے صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثلاثة لا يكلمهم الله ولا ينظر اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم المسبل والمنان فيما اعطي والمنفق سلعته بالحلفالكاذب (صحيح مسلم)

''تین قسم کے آدمیوں سے اللہ تعالیٰ روز قیامت کلام فرمائے گا۔نہ ان کی طرف دیکھے گا۔اور نہ انھیں پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔1۔کپڑے کو (ٹخنوں سے)نیچے لٹکانے والا۔2۔صدقہ دے کر احسان جتلانے والا اور 3۔اپنے سودے کو جھوٹی قسم کھا کر بیچنے والا۔''

اگر کپڑے وغیرہ کو تکبر کی وجہ سےلٹکایا جارہا ہو تو اس میں گناہ اور بھی زیادہ ہے۔اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد گرفت اور سزا کا بھی خطرہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

من جز ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة(صحيح بخاری)

''جس(مرد) نے اپنے کپڑے کو ازراہ تکبر نیچے لٹکایا اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف دیکھےگا بھی نہیں۔''

لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے۔کہ کپڑے کے لٹکانے اور ان تمام دیگر گناہوں کے ارتکاب سے اجتناب کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔اسی طرح ہر قسم کی بدعت سے اجتناب بھی ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو ر د

(صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ ۔۔۔ح :1718۔وصحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب رقم :20)

‘‘جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہماراامر نہیں ہے تو وہ مردود ہے’’

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ:

 خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلي الله عليه وسلم وشر الامور محدثاتها وكل بدعة ضلالة(صحيح مسلم)

''بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔اور بہترین طریقہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا  طریقہ ہے۔ اور سب سے زیادہ بُرے کام بدعات ہیں اور ہربدعت گمراہی ہے۔''

ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور سب مسلمانوں کو بدعات اور گناہوں سے محفوظ رکھے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص499

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ