السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرض ادا کرنے کے بعد سنتوں کی جگہ کی تبدیلی کے بارے میں کوئی دلیل وارد ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہاں! حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ:
ان النبي صلي الليه عليه وسلم امرنا ان لا نوصل صلاة بصلاة حتي نخرج او نتكلم (صحيح مسلم )
'' ہم ایک نماز کو دوسری کے ساتھ نہ ملایئں حتیٰ کہ ہم الگ ہوجایئں یا کلام کریں۔''
تو اس حدیث سے اہل علم نے یہ اخذ کیا ہے کہ فرض اور سنتوں میں فاصلہ ہونا چاہیے کلام کے زریعہ یا جگہ کی تبدیلی کے زریعہ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب