سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(244) نمازِ فجر کی اگر ایک رکعت رہ جائے تو اسے جہراً مکمل کرنا چاہیے یا سراً؟

  • 1040
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-04
  • مشاہدات : 488

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص سے نماز فجر کی ایک رکعت فوت ہوگئی، کیا وہ اسے جہراً مکمل کرے یا سراً؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص سے نماز فجر کی ایک رکعت فوت ہوگئی، کیا وہ اسے جہراً مکمل کرے یا سراً؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اسے اختیار ہے لیکن افضل یہ ہے کہ وہ اسے سراً مکمل کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی دوسرا شخص بھی نماز پڑھ رہا ہو جو اس کے جہراً پڑھنے سے تشویش محسوس کرے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ278

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ