سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جب نمازی کو یہ شک ہو کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار؟

  • 10392
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 836

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دینی بھائی نے یہ پوچھا ہے کہ جب کسی کو نماز میں شک ہو اور یہ معلوم نہ ہوکہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار تو کیا اسے نماز دوہرانا چاہیے؟امید ہے مستفید فرما کر شکریہ کا موقعہ بخشیں گے!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب انسان کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور یہ معلوم نہ ہوکہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار تو اس کے لئے یہ جائزنہیں کہ اس شک کی بنیاد پر نماز کو توڑ دے۔جب کہ فرض نماز ہو کیونکہ فرض نماز کو توڑنا جائز نہیں ہے۔اور اس سلسلہ میں وہ کرنا چاہیے جوسنت میں آیا ہے۔ اور سنت میں یہ آیا ہے کہ جب انسان کو نماز میں شک ہو اور یہ نہ معلوم ہوکہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔تین رکعت یا چار تو اس کی دو صورتیں ہوں گی۔

ایک تو یہ کہ شک مساوی ہو کہ کسی ایک پہلو کو وہ ترجیح نہ سے سکتا ہو تو اس صورت میں وہ قلیل تعداد پر بنا کرے یعنی انہیں تین سمجھے اور چوتھی رکعت پڑھے اور سلام سے پہلے سجدہ سہوکرے اور دوسری صورت یہ ہے کہ شک تو ہو لیکن ایک پہلو راحج ہو مثلا یہ کہ رکعات چار ہی پڑھی ہیں تو اس صورت میں چار ہی بنا کرے۔سلام پھیر دے اور پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے۔

شک کی ان دونوں حالتوں کے بارے میں سنت سے یہی ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ پہلی حالت میں یقین پر بنا کی جائے اور دوسری حالت میں صحیح صورت حال کے لئے کوشش کی جائے تو یہ اس بات  کی بھی دلیل ہے کہ شک کی وجہ سے نماز کو توڑ نہ دیاجائے۔اگر نماز فرض ہو تو اسے توڑنا حرام ہے۔اگر نفل ہوتو اسے بھی شک کی بنا ء پر توڑا نہ جائے۔ بلکہ وہ کام کیا جائے۔جس کانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا  ہے۔ہاں البتہ نفل نماز کو اگر توڑنا چاہے تو یہ جائز ہے البتہ علماء فرماتے ہیں کے کسی صحیح غرض کے بغیر نفل نماز کوتوڑنا مکروہ ہے نفل حج اور عمرہ کو توڑنا بھی جائز نہیں الا یہ کہ راستہ محصور ہوجائے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَتِمُّوا الحَجَّ وَالعُمرَ‌ةَ لِلَّهِ ۚ فَإِن أُحصِر‌تُم فَمَا استَيسَرَ‌ مِنَ الهَدىِ...﴿١٩٦﴾... سورة البقرة

اور اللہ (کی خوشنودی) کے لئے حج اورعمرے کو پورا کرو اوراگر (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو)۔''

یہ آیت حج کی فرضیت سے پہلے حدیبیہ میں نازل ہوئی ہے اورحج 9 ہجری میں فرض ہوا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص425

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ