سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نماز میں قراءت کے درمیان دعاء کا حکم

  • 10372
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 940

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے بعض نمازیوں کو سنا ہے کے وہ نماز میں قراءت کے دوران قراءت کو قطع کرکے مناسب دعایئں کرنا شروع کردیتے ہیں۔مثلا جنت کے زکر کےموقعہ پر وہ یہ دعا ء کرتے ہیں۔((اللهم اني اسئلك الجنة))اس طرح جہنم کے زکرکے موقعہ پر وہ یہ دعاء کرتے ہیں۔((اللهم اجرني من النار)) تو کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوشخص بھی نماز کے اندر یا نماز سے باہر قرآن مجید کی تلاوت کرے اس کے لئے یہ مسنون ہے کہ جب وہ آیت رحمت کی تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرے۔جب آیت عذاب کی تلاوت کرے تو اس سے جہنم کی آگ سے پناہ چاہے جب اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کی آیت کی تلاوت کرے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے تنزہیہ بیان کرے اور اس موقع پر سبحانہ وتعالیٰ یا اس طرح کے دیگر کلمات کہہ لے اور جو یہ پڑھے((اليس لله باحكم الحاكمين)) تو اس کے لئے مستحب ہے کہ یہ کہے((بلي وانا علي ذلك من الشاهدين))جب یہ پڑھے((اليس ذلك بقادر علي ان يحي الموتي)) تو کہے((بلي اشهد)) جب یہ پڑھے((فباي حديث بعده يومنون)) تو یہ کہے((امنت بالله))جب یہ پڑھے ((فباي الاء ربكما تكذبان)) تو یہ کہے((لا تكذب بشئ من آيات ربنا))اور جب یہ پڑھے ((سبح اسم ربك الاعليٰ))تو کہے((سبحان ربي الاعليٰ))

یہ کلمات امام مقتدی اور منفرد سب کے لئے کہنا مستحب ہے کیونکہ یہ دعاء ہیں اور دعاء آمین کی طرح سب سے مطلوب ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص نماز سے باہر ان آیات کی قراءت کرتا ہے۔تو پھر بھی ا س کےلئے یہی حکم ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص413

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ