السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
وضوء اور نماز کی نیت کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بدعت ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اورصحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا اسے ترک کردینا واجب ہے۔نیت کامقام دل ہے۔لہذا الفاظ کے ساتھ نیت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب