سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نماز عصر کو بعد از مغرب پڑھنا

  • 10358
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-02
  • مشاہدات : 395

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نماز عصر پڑھنا بھو ل گئے اور اس وقت یا د آیا جب  ہم نے مغر ب کی اذا ن کی آواز سنی تو ہم نے نما ز مغر ب کے بعد عصر کی نما ز کو پڑ ھ لیا اس کے لئے کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب انسا ن نماز کو بھو ل جا ئے یا سو جا ئے اور پا س کو ئی بیدا ر کر نے یا یا د دلا نے وا لا نہ ہو اور وقت خا ر ج ہو جا ئے تو جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا ہے :

(يصليها اذا زكرها ولا كفارة لها الا ذلك )(صحیح بخا ری )

اسے جب یا د آئے پڑ ھ لے اس کا یہی کفا رہ ہے ۔ اس حا لت میں جو سائل نے ذکر کی ہے اسے چا ہئے تھا کہ پہلے نماز عصر پڑ ھتا اور پھر مغرب تا کہ وہ اس تر تیب کے مطا بق نماز پڑ ھتا جسے اللہ تعا لیٰ نے فرض قرار دیا ہے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی نما ز یں جب ایک دن غز و ہ خندق کے دوران فو ت ہو گئی تھیں تو آپ  نے انہیں تر تیب ہی سے پڑھا تھا اور آپ کا مشہو ر ارشاد گرا می ہے کہ :

(صلوا كما رايتموني اصلي)(صحیح بخا ری )

'' تم اس طرح نماز پڑھو  جس طرح مجھے نما ز پڑ ھتے ہو ئے دیکھتے ہو۔ ''

لہذا جب آپ مسجد میں آئے اور لو گ نما ز مغر ب ادا کر رہے تھے تو آپ ان کے سا تھ نماز عصر کی نیت کر کے شا مل ہو جا تے اور امام کے سلا م کے بعد با قی نماز پو ری کر لیتے لو گو ں کی یہ نماز مغر ب آپ کےلئے نما عصر ہو تی اور اس سے کو ئی فر ق نہیں پڑتا کہ امام مقتدی کی نیت الگ الگ ہو کیو نکہ افعا ل ایک جیسے ہیں اور امام جن اختلافا ت سے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا ہے وہ نیت کے علا و ہ دیگر افعا ل ہیں اور آپ نے مغر ب کی نماز کو جو عصر سے پہلے پڑ ھ لیا تو یہ شر عی حکم سے نا واقفیت کی وجہ سے ہے لہذا اس مین کو ئی حر ج نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص406

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ