سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جہری نماز میں قراءت کا بلند آواز سے نہ پڑھنا

  • 10357
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-15
  • مشاہدات : 951

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ جا ئز ہے کہ نماز عشا ء میں قراءت جہر ی نہ کی جا ئے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حکم شریعت یہ ہے کہ امام را ت کی نماز میں قراءت جہر ی کرے تا کہ مقتدی اسے سن کر اس سے استفا دہ کر یں اگر امام سہو اً جہر ترک کر دے تو اس پر سجدہ سہو لا ز م نہ ہو گا ۔ اسی طرح جو شخص انفرا دی طو ر پر نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے لئے جہر ی قراء ت لا ز م نہیں ہے کیو نکہ اس نے تو اپنی قرا ت اپنے جی ہی کو سنا نا ہو تی ہے اور اگر وہ جہر ی قرات کرے تو اس میں کو ئی حرج نہیں بشر طیکہ اس سے کسی دوسر ے قا ری یا نما ز ی یا سوئے ہو ئے آدمی کو پر یشا نی نہ ہو اور وہ یہ سمجھے کہ جہری قراءت اس کے لئے زیا دہ قو ی اور حضو ر قلب کا با عث ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص406

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ