السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب کو ئی آدمی امام کے سا تھ چا ر رکعتو ں والی نماز میں اس وقت شا مل ہو کہ اس کی دو رکعات فو ت ہو گئی ہوں تو ان دو اخر ی رکعا ت کے با ر ے میں وہ کیا نیت کر ے کہیہ اس کی پہلی دو رکعا ت ہیں یا آخر ی رکعا ت ہیں تا کہ پہلی دو رکعا ت کی نیت سے وہ فو ت شدہ رکعا ت کی قضا دے ۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
صحیح با ت یہ ہے کہ آدمی جما عت کے سا تھ جو نماز پا تا ہے وہ اس کی نماز کا ابتدا ئی حصہ ہے اور جسے وہ بعد میں ادا کر تا ہے وہ اس کی نماز کا آخر ی حصہ ہے لہذا جب کو ئی شخص امام کے سا تھ ظہر کی دو رکعات پا لے اور امام کے سا تھ اس کے لئے سو ر ت فا تحہ اور کو ئی دوسر ی سورت پڑ ھنا ممکن ہو تو وہ پڑ ھے اور امام جب اسلام پھیر دے تو یہ کھڑا ہو کر اپنی نماز کو مکمل کر لے اور ان کی آخر ی دو رکعا ت میں صرف سورۃ فا تحہ پڑ ھنے پر اکتفا ء کر ے کیو نکہ یہ اس نماز کا آخری حصہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :
(ما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا)(صحیح بخا ری )
''نما ز کا جو حصہ پا لو اسے پڑ ھ لو اور فو ت ہو جا ئے اسے مکمل کر لو ۔''
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب