سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نیند کی وجہ سے نماز کو مؤ خر کرنا

  • 10351
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-02
  • مشاہدات : 462

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک لڑ کی ہو ں میند کی وجہ سے میر ی اکثر نماز مغر ب  فو ت ہو جا تی ہے اور پھر میں اسے را ت کو دیر سے یا صبح پڑ ھتی ہو ں اس کے با ر ے میں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حکم یہ ہے کہ کسی کے لئے یہ جا ئز نہیں کہ وہ کسی نماز میں اس قدر سستی کر ے  کہ اس کا وقت ختم ہو جا ئے انسا ن جب سو نے لگے تو وہ کسی کو کہہ دے جو اسے بیدا ر کر دے تا کہ بر وقت نما ز ادا کی جا ئے یہ ضروری ہے اور یہ جا ئز نہیں کہ نماز مغر ب یا عشاء کو صبح تک مؤ خر کیا جائے بلکہ وا جب یہ ہے کہ نماز کو بر وقت ادا کیا جا ئے لہذا اس لڑ کی کو چا ہئے کہ وہ اپنے گھروالوں سے کہے کہ وہ اسے نماز کے وقت بیدا ر کردیں ہا ں البتہ اگر کو ئی ایسی شد ید حا جت یا عا رضہ در پیش ہو جس کی وجہ سے نیند کا سخت غلبہ ہو وہ مغر ب کی نماز ادا کر ے اور ڈر ہو کہ اگر اس نے نماز عشا ء نہ پڑ ھی تو اس پر نیند کا اس قدر غلبہ ہو گا کہ وہ نماز فجر سے پہلے نہ اٹھ سکے گی تو پھر اس حا ل میں عشا ء کو مغر ب کے سا تھ جمع کر کے ادا کر نے میں کو ئی حر ج نہیں تا کہ عشاء کی نماز وقت سے فوت نہ ہو لیکن ایسی صورت تو کسی عا رضہ ہی کی وجہ سے ہو سکتی ہے مثلاً یہ کہ وہ کئی راتوں تک بیدا ر ہو یا کسی بیما ری کی وجہ سے یہ صورت در پیش ہو

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص403

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ