سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نکاح سے پہلے طلاق کی قسم کھانا

  • 10322
  • تاریخ اشاعت : 2014-03-01
  • مشاہدات : 944

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں:

ایک آدمی نے قسم کھائی کہ -

1. اگر میں زنا کروں تو جس عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق

2. اگر میں شراب پیؤ ں تو جس عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق

3. اگر میں بد نظری کروں تو جس عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق

پھر اس سے بد نظری ہو گئ اس نے مسئلہ پوچھا تو مفتی صاحب نے بتایا کہ آپ نے (کل امرأہ )والی قسم کھائی ہے اب جس سے شادی کرو گے تو ایک دفعہ طلاق ہو جاۓ گی دوبارہ نکاح کرنے سے طلاق نہیں ہو گی- پھر اس کی شادی ہو گئ تو نکاح خوا ں نے تین دفعہ پہلے لڑکی سےجو اپنے گھر میں تھی اس سے پوچھا کہ میں نے تمہارا نکاح فلاں لڑکے سے کیا تم نے قبول کیا اس نے کہا قبول کیا پھر اسی طر ح لڑکے کے پاس آ کر جو باہر سائبان کے نیچے تھا اس سےبھی اسی طرح پوچھااس نے بھی تین دفعہ کہا قبول ہے .اب اس کی شادی کو کچھ عرصہ گزر گیا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح تین دفعہ پوچھنے سے اس کہ نکاح دو دفعہ ہو گیا یا نہیں.اگر نہیں ہوا تو اب کیا کرے .اور کیا اس معاملے میں امام شا فعی رحمت اللہ علیہ کے مذھب پر عمل ہو سکتا ہے کہ ان کہ ہاں نکاح سے پہلے طلاق معلق لغو ہوتی ہے مہربانی فرما کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں کوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی ہے کیونکہ طلاق صرف وہی دے سکتا ہے جو خاوند ہو ،جب کسی کی شادی ہی نہیں ہوئی ہے تو اس کی طلاق کیسے ہو سکتی ہے۔

امام بخاری فرماتے ہیں:

بَاب لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّکَاحِ وَقَوْلُ اللہِ تَعَالٰى { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا } وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَعَلَ اللہُ الطَّلَاقَ بَعْدَ النِّکَاحِ وَيُرْوٰى فِي ذٰلِکَ عَنْ عَلِيٍّ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَعُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ وَأَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَشُرَيْحٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالقَاسِمِ وَسَالِمٍ وَطَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَعِكْرِمَةَ وَعَطَاءٍ وَعَامِرِ بْنِ سَعْدٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَمُجَاهِدٍ وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَعَمْرِو بْنِ هَرِمٍ وَالشَّعْبِيِّ أَنَّهَا لَا تَطْلُق۔

نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے، ارشادِ الہٰی ہے ’’اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرتے ہو، پھر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دیدی ہو تو ان کے ذمہ تمہاری کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کی گنتی تمہیں شمار کرنی ہو، لہٰذا انہیں کچھ تحفہ دیدو اور انہیں خوبصورتی سے رخصت کردو‘‘، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے اور اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ، سعید بن المسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبد الرحمٰن، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبد الرحمن، عمرو بن ہرم اور شعبی رحمہم اللہ سے روایت منقول ہے کہ (مذکورہ بالا صورت میں) عورت کو طلاق نہیں ہوتی۔

لہذا اس شخص کومزید مشکلات سے بچنے کے لئے چاہئے کہ وہ اپنی اس قسم کا کفارہ ادا کر لے اور اپنی اس قسم سے باہر نکل آئے۔

نیز دوسری بات یہ ہے کہ اگر قسم کا مقصد کسی کام سے بچنا یا کسی کام کی ترغیب ہو تو اسے طلاق واقع نہیں ہوتی ،بلکہ اس پر کفارہ لازم ہے۔یہاں اگر اس کا مقصد اپنے آپ کو ان گناہوں سے روکنا مقصود تھا تو پھر طلاق واقع نہیں ہوئی ،یہ محض قسم ہے جس کا کفارہ لازم ہے۔امام ابن تیمیہ،شیخ صالح العثیمین اور شیخ ابن باز کا یہی موقف ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ