السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب کپڑا یا پتلون وغیرہ اس قدر لمبی ہو کہ وہ ٹخنوں سے نیچے پہنچ رہی ہو تو کیا اس کے ساتھ نماز صحیح ہوگی؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
پتلون وغیرہ کو ٹخنوں کے نیچے لٹکانا حرام ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ:
ما اسفل من الكعبين من الازار فهو في النار (صحيح بخاري)
ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم کی آگ میں ہوگا۔''
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں جو ازار کی بابت فرمایا ہے باقی کپڑوں کے لئے بھی یہی حکم ہے لہذا ہر مسلمان کے لئے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی پتلون اور دیگر کپڑوں کواپنے ٹخنوں سے اونچا رکھے اور اگر کپڑا نیچے لٹک رہا ہو تواس حالت میں پڑھی جانے والی نماز کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔بعض کی رائے یہ ہے کہ نماز صحیح ہوگی کیونکہ آدمی نے واجب یعنی ستر پوشی کے حکم کو پور ا کردیا ہے۔اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس حالت میں نماز صحیح نہ ہوگی کیونکہ ا س نے حرام کپڑے کے ساتھ ستر پوشی کی ہےانہوں نے ستر پوشی کے لئے یہ بھی شر ط قراردی ہے کہ وہ جائز کپڑے کے ساتھ ہو لہذا کپڑوں کے ٹخنوں سے نیچے ہونے کی صورت میں خطرہ ضرور ہے۔ لہذا اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے کپڑے اوپراٹھا لینے چاہیں تاکہ وہ ٹخنوں سے اوپر اوپر رہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب