سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سوئے ہو ئے شخص کی نماز

  • 10285
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-26
  • مشاہدات : 408

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص نماز عشا ء نہ پڑ ھے سو جا ئے اور اسے نما ز فجر کے بعد یاد آئے تو کیا وہ اسے اسی وقت پڑھے یا اگلی عشا ء کی نماز کے سا تھ پڑھے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشا د مو جو د ہے کہ : (من نام عن الصلواة او نسيها ف فليصلها اذا زكرها لاكفاره لها الا ذلك وقرا قوله تعالي ......آيت)(صحیح بخا ری )

"جو شخص نما ز سے سو جا ئے یا بھو ل جا ئے تو وہ اس وقت پڑھے جب یاد آجا ئے  اس کا یہی کفا رہ ہے " اس مو قعہ پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشا د با ر ی تعا لیٰ بھی  پڑ ھا : اور میر ی یا د کے لئے نماز پڑ ھا کر و ۔ ’’

 اس مسئلہ  میں نماز عشا ء اور دیگر نما زوں میں کو ئی فرق نہیں ہے لہذا آدمی جب بھی بیدا ر ہو  وقت نہ بھی ہو تو فو راً اسی وقت پڑھ لے اور عشاء تک مؤ خر نہ کر ے بلکہ جو ں ہی یا د آ ئے فوراً پڑ ھ لے خواہ ممانعت کا وقت ہو یا کسی اورنما ز کا لیکن اگر یہ خدشہ ہو کہ اس نماز کے پڑھنے سے مو جو د نماز کا وقت ختم ہو جا ئے گا تو پھر پہلے مو جو د نماز کو پڑھ لے اور اس کے بعد فو ت شد ہ نماز کو پڑ ھ لے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص378

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ