سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ہم نے اجتہاد سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی

  • 10249
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-25
  • مشاہدات : 312

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب ہم امریکہ میں گئے تو قطب نما کی مددسے قبلہ کا تعین کرکے نماز پڑھتے رہے اورجب بعض مسلمان بھائیوں سے تعارف ہوا توانہوں نے بتایا کہ ہم نے غیرقبلہ کی طرف نمازیں پڑھی ہیں اورانہوں نے صحیح سمت قبلہ کی طرف ہماری رہنمائی کی ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہو نمازیں جو ہم نے غیر قبلہ رخ پڑھی ہیں ،وہ صحیح ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب صحرا یا ایسے علاقوں میں ہونے کی وجہ سے جہاں قبلہ مشتبہ ہو،مومن قبلہ کی سمت معلوم کرنے کے لئے اجتہاد کرے اوراپنے اجتہا د کے مطابق نماز پڑھ لے اورپھر بعد میں معلوم ہو کہ ا س نے غیر قبلہ رخ نماز پڑھی ہے توپھر وہ اپنے آخری اجتہاد کے مطابق عمل کرے بشرطیکہ ا س کا یہ آخری اجتہا د پہلے اجتہاد کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔پہلے پڑھی ہوئی نماز صحیح ہوگی کیونکہ یہ اس نے اجتہاد اورحق کی تلاش کے لئے کوشش کرکے پڑھی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوحضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے جو اس کی صحت پر دلالت کناں ہے اوروہ یہ کہ جب قبلہ بیت المقدس کے بجائے کعبہ مشرفہ کی طرف بدل دیا گیا

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص357

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ