السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے انفرادی طور پر نماز کو شروع کیا اور دوسری رکعت میں اس کے ساتھ ایک اور شامل شامل ہوگیا لیکن امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس نے کھڑے ہو کر پانچویں رکعت بھی پڑھی یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی پہلی رکعت صحیح نہیں کیونکہ اسے اس نے صف کے پیچھے انفرادی طور پر پڑھا تو کیا اس کی یہ نماز صحیح ہے اور جس شخص نے ایسا کیا ہو وہ اپنی نماز کو کس طرح پورا کرے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلواۃ لمنفرد خلف الصف(ابن حبان ص 401)
''صف کے پیچھے منفرد کی نماز نہیں ہوتی۔''
نبی علیہ السلام سے یہ بھی ثابت ہے کہ:
انه راي رجلا يصلي خلف الصف وحده فامره ان يعيد الصلاة(سنن ابي دائود)
''آپ نے صف کے پیچھے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دیا کہ وہ نماز کو دوہرائے۔''
لیکن جو شخص صف سے پہلے ہی رکوع کرے اور پھر صف میں سجدہ سے پہلے داخل ہوجائے تو اس کی ر کعت ہوجائے گی کیونکہ صحیح بخاری میں حضرت ابو بکرہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے۔تو انھوں نے صف میں داخل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
زادك الله حرصا ولا تعد (صحيح بخاري)
''اللہ تمہارے شوق میں اضافہ فرمائے آئندہ اس طرح نہ کرنا۔''1نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس رکعت کے دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ رکعت ہوگئی اور اس طرح کا یہ عمل آپ کے اس ارشاد
سے مستثنیٰ ہے کہ صف کے پیچھے منفرد کی نماز نہیں ہوتی۔
1اس واقعے سے مدرک رکوع کی رکعت کو شمار کرنا صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ اس سے قبل ایک حاشیے میں اس کی مختصر تفصیل گزر چکی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب