سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سپیکر پر اذان کے بعد مؤذن کا یہ کہنا کہ نماز پڑھو اللہ تمھیں ہدایت دے!

  • 10210
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 880

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض مؤذن ازان فجر سے فارغ ہونے اور مسنون دعاء پڑھنے کے بعد یہ کہتے ہیں ''نماز پڑھو'' اللہ تمھیں ہدایت دے۔'' تو اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا...﴿٣﴾... سورةالمائدة

‘‘آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اوراپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اورتمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔’’

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:

عليكم بسنتي وسنة الخلفاء راشدين المهدين من بعدي تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجد واياكم ومحدثات الامور فان كل محدثه بدعة وكل بدعة ضلالة (مسند احمد)

''میری اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو۔اوراسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنے آپ کو (دین میں) نئے نئے کاموں سے بچائو کیونکہ (دین میں)ہرنیاکام بدعت ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے۔''

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:

من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد

(صحيح بخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود :2697) صحیح مسلم کتاب الاقضیہ باب نقض الاحکام الباطلۃ۔۔۔ح:1718)

‘‘جس نے ہمارے اس امر(دین)میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے’’

بعض سلف صالحین سے منقول ہے کہ اتباع کرو اور بدعت ایجاد نہ کرو کیونکہ تمہارے لئے کتاب وسنت کافی ہے۔ لہذا مسلمان کو چاہیے کہ امور عبادت میں صرف اسی پر اکتفاء کرےجس کی مشروعیت ثابت ہو اور اس پر کسی قسم کا اضافہ نہ کرے کیونکہ یہ زائد چیز اگر مستحسن ہوتی تو اس کا شریعت میں ضرور حکم دیا جاتا۔اگر یہ بات بہتر ہوتی تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں ضرور بتاتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے اور حضرات صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین بھی اس پر عمل پیرا ہوتے اس تفصیل سے مذکورہ سوال کاجواب خود بخود واضح ہوگیا کہ  اذان کے بارے میں صرف اسی پر اکتفا کرنا چاہیے جو اذان کے بارے میں شرعی طور پر ثابت ہے۔اوراس پر جو بھی اضافہ ہوگا اور بدعت قبیل سے ہوگا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص334

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ