سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ساس کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی کے نکاح کا حکم

  • 10180
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-23
  • مشاہدات : 2091

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص اگر اپنی ساس کے ساتھ زنا کرلیتا ہے تو کیا اس کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح باقی رہتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اگر اپنی ساس کے ساتھ زنا کرلیتا ہے تو کیا اس کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح باقی رہتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زنا ایک انتہائی قبیح گناہ ہے ،خصوصا محارم کے ساتھ اس کی قباحت اور زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔آپ اللہ سے پکی توبہ کریں اور آئندہ کے لئے اس جرم شنیع سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔

ساس کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی ہے۔کیونکہ کسی بھی حرام کام سے کوئی حلال کام حرام نہیں ہوتا ہے۔

نبی کریم نے فرمایا:

«لا يحرم الحرام الحلال»سنن ابن ماجه » كتاب النكاح » باب لا يحرم الحرام الحلال(2015)

حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرتا

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ