سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جب نفاس والی عورت چالیس دنوں سے پہلے پاک ہوجائے

  • 10176
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-19
  • مشاہدات : 469

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
امید ہے آپ اس مسئلہ میں فتویٰ سے نوازیں گے کہ نفاس والی عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ چالیس دنوں کے بعد ہی نمازیں پڑھے یا پاک ہونے کی صورت میں وہ چالیس دنوں سے پہلے بھی نماز پڑھ سکتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امید ہے آپ اس مسئلہ میں فتویٰ سے نوازیں گے کہ نفاس والی عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ چالیس دنوں کے بعد ہی نمازیں پڑھے یا پاک ہونے کی صورت میں وہ چالیس دنوں سے پہلے بھی نماز پڑھ سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نفاس والی عورت جب پاک ہوجائے تو وہ غسل کرکے روزہ رکھ سکتی ہے اور نماز پڑھ سکتی ہے خواہ اس نے ابھی چالیس دن پورے کیے ہوں یا نہ کئے ہوں۔اور جب وہ چالیس دن پورے کرلے اور پھر بھی خون جاری ہو تو وہ غسل کرکے نماز شروع کردے خواہ خون جاری ہو۔ کیونکہ چالیس دنوں بعدج جاری رہنے والا خون خون استخاضہ کی مانند خون ہے الا یہ کہ انہی ایام میں خون حیض جاری ہوجائے تو پھر اسے معمول کے ایام کے مطابق صوم وصلواۃ کوچھوڑ دینا ہو گا اورایام ختم ہونے کی بعد غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کرنا ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص318

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ