سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(120) ناپاکی اور نجاست سے طہارت کی بنیاد پانی ہے

  • 1016
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-03
  • مشاہدات : 1114

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ناپاکی اور نجاست سے طہارت حاصل کرنے میں اصل کیا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ناپاکی اور نجاست سے طہارت حاصل کرنے میں اصل کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نجاست سے طہارت حاصل کرنے میں اصل پانی ہے کیونکہ طہارت پانی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے، خواہ پانی صاف ہو یا کوئی پاک چیز مل جانے کی وجہ سے بدل گیا ہو۔ راجح قول یہی ہے کہ پانی جب کسی پاک چیز کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے بدل گیا ہو لیکن ابھی تک اسے پانی ہی کہا جاتا ہو تو اس سے طہوریت یعنی اس سے پاک کر نے کی صلاحیت زائل نہیں ہوتی۔ یعنی یہ کہ وہ فی نفسہٖ طہور اور طاہر دونوں ہے اوربیک وقت دوسری چیزوں کے لیے مطہر بھی۔ اگر پانی موجود نہ ہو یا اس کے استعمال سے نقصان ہوتا ہو تو پھر پانی سے طہارت حاصل کرنے کے بجائے تیمم کیا جائے۔ تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا جائے، پھر ان دونوں کو چہرے پر پھیر لیا جائے اور اس کے بعدہتھیلیوں کو بھی ایک دوسرے پر پھیر ا جائے۔ یہ حکم ناپاکی سے طہارت حاصل کرنے کے حوالے سے ہے۔ نجاست سے طہارت حاصل کرنے کے حوالہ سے حکم یہ ہے کہ پانی یا جو چیز بھی نجاست کو زائل کر دے، اس سے طہارت حاصل ہو جائے گی کیونکہ نجاست سے طہارت کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس نجاست کو کسی بھی چیز کے ذریعہ زائل کر دیا جائے۔ جب عین نجاست پانی یا پٹرول یا کسی بھی دوسری تر یا خشک چیز سے مکمل طور پر زائل ہو جائے تو طہارت حاصل ہو گئی اگر کوئی چیز کتے کے منہ ڈالنے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہو تو اسے سات بار دھونا اور ایک بار مٹی سے مانجھنا فرض ہے۔ اس تفصیل سے یہ معلوم ہوگیا کہ ناپاکی سے طہارت حاصل کرنے اور نجاست سے طہارت حاصل کرنے میں کیا فرق ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ192

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ