سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

تیمم سے پڑھی ہوئی نمازوں کو دوہرانا

  • 10139
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1131

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں صبح کے  وقت  حا لت جنا بت میں تھا لیکن پا نی مو جو د  نہ تھا اس لئے میں  نے نما ز وں  کو تیمم سے پڑھ لیا شا م کو جب پا نی ملا تو میں نے غسل جنا بت کر لیا تو کیا مجھے وہ نماز یں  دوہرا نا ہو ں گی جو میں نے تیمم سے پڑھی ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے پا نی کی عدم مو جو د  گی کا سبب ذکر نہیں کیا اگر آپ صحرا ئی قصبہ یا کسی شہر میں سکونت پذیر ہیں تو ان میں عا م طور پر پا نی موجو د ہو تا ہے اگر ایک جگہ پا نی کی سپلا ئی بند ہو تو دوسری  جگہ جا ری ہو جا تی ہے لہذا جنبی اور محدث (بے وضوء )کے لئے ضروری کہ وہ پانی تلا ش کر ے پڑوسیوں سے واٹر سپلا ئی کے مر اکز سے یا کنوؤں وغیرہ سے پا نی طلب کر ے لہذا جس نے پا نی تلا ش کئے بغیر تیمم سے نما ز پڑھ لی اس کےلئے لاز م ہے کہ وہ اس نماز کو دوہرا ئے با دیہ صحرا میں بسا اوقا ت پا نی دستیاب نہیں ہو تا لہذا قرب و جوار میں تلا ش کر نے کے با وجو د اگر پا نی نہ ملے تو تیمم جا ئز ہے اگر ضرورت سے زائد پا نی مو جو د ہو یا عدم مو جو د گی کی صورت میں قریب جگہ سے ملنا ممکن ہو تو پھر تیمم  جا ئز نہ ہو گا واللہ اعلم ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص296

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ