السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا اونٹ کا گو شت کھا نے اور اس کھا نے کے بعد جسے اونٹ کے گو شت کے سا تھ بنا یا گیا ہو وضو ء کر نا وا جب ہے ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اونٹ کا گو شت ملا کھا نا کھا نے اور اونٹنی کا دودوھ پینے سے وضو ء کر نا وا جب نہیں ہے کیو نکہ علما ء کے صحیح ترین قو ل کے مطا بق صرف ابل (اونٹ ) کے گو شت کھا نے سے وضوء کر نا وا جب ہے کیونکہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ہے :
(توضئووا من لحوم الابل ولا تتوضئووا من لحوم الغنم )(سنن ابی داود )
"ابل(اونٹ)کے گو شت کھا نے سے وضو ء کر و اور بکر ی کے گو شت کھا نے سے وضو ء نہ کرو "
اور امام مسلم نے صحیح میں حضرت جا بر بن سمر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت بیا ن کی ہے کہ :
(ان رجلا سال النبي صلي الله عليه وسلم اتوضا من لحوم الابل قال نعم)(صحیح مسلم )
"ایک آد می نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا کیا ہم اونٹ کے گو شت کھا نے سے وضو ء کر یں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ہا ں "یا د رہے شو ر بے کھا نے اور دودھ کو گو شت نہیں کہا جا سکتا (یعنی ) یہ حکم صرف گو شت کھا نے کی صورت میں ہے ) اور یہ امو ر تو قیضی ہیں قیا س کا ان میں کوئی دخل نہیں
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب