سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(554) قسم کا کفارہ

  • 10039
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-17
  • مشاہدات : 543

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قسم کا کیا کفارہ ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قسم کا کفارہ بیان کرتے ہوئے سورۃ المائدہ میں فرمایا ہے:

﴿لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم وَلـٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ ۖ فَكَفّـٰرَ‌تُهُ إِطعامُ عَشَرَ‌ةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ...﴿٨٩﴾... سورة المائدة

’’اللہ تعالیٰ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھالتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جس کو میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے‘‘۔

بے ارادہ قسموں سے مرادہ وہ قسمیں ہیں جو اثناء کلام میں غیر ارادی طور پر انسان کی زبان پر آ جاتی ہیں اور انسان کہتا ہے ’’نہیں اللہ کی قسم‘‘ یا ہاں اللہ کی قسم‘‘ ایسی قسموں پر کوئی کفارہ نہیں ہاں البتہ ان قسموں پر کفارہ ہے جو انسان دل کے قصد و ارادہ کے ساتھ کھائے تو ان کے کفارہ میں اختیار ہے کہ ایک غلام آزاد کر دیا جائے یا دس مسکینوں کو اوسط درجے کا وہ کھانا کھلایا جائے جو وہ خود اس کے اہل و عیال کھاتے ہوں۔ اگر انہیں دوپہر یا شام کا کھانا کھلا دیا جائے یا بقدر ضرورت دے دیا جائے تو یہ کافی ہے یا انہیں ایسا لباس دے دیا جائے جو نمازمیں ستر پوشی کا کام دے سکے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو متواتر تین روزے رکھ لیے جائیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص525

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ