سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(550) بیوی سے کہا کہ اگر تو نکلی تو پھر واپس نہ آنا

  • 10035
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-16
  • مشاہدات : 612

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو پھر واپس نہ آنا۔ اس وقت میرا مقصد اسے گھر سے نکلنے سے منع کرنا تھا اور طلاق وغیرہ کے بارے میں تو میں نے سوچا تک بھی نہ تھا۔ اب مجھے ڈر ہے کہ میری بیوی کسی وقت گھر سے نکلنے پر جبور ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ مجھے اس کا علم بھی نہ ہو تو کیا میں نے جو بات کی تھی وہ قسم ہے اور میں اس کا اب کفارہ دے سکتا ہوں؟ یا اس صورت میں میرے لیے کیا لازم ہے؟ رہنمائی فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ کلام قسم کے حکم میں ہے لہٰذا جب وہ گھر سے نکلے تو آپ پر کفارہ قسم لازم ہے‘ اس سے اس پر طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر اس کلام کے وقت آپ نے یہ بھی کہا کہ وہ آپ کی اجازت کے بغیر نہ نکلے تو اجازت دینے کی صورت میں کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ - ( صحیح بخاری)

’’تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔

نیز آپ نے یہ بھی فرمایا:

«المسلمون علي شروطهم - ( سنن ابي داؤد)

’’مسلمان اپنی شرطوں کے مطابق عمل کرتے ہیں‘‘ ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ