سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(549) بھول کر طلاق کے ساتھ قسم کھا لی

  • 10034
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-16
  • مشاہدات : 705

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی نئی نئی شادی ہوئی تھی مگر اس نے بھول کر قسم کھا لی کہ میں آئندہ سال یہ خردوں گا ورنہ مجھ پر طلاق اور کیا اگر وہ نہ خریدے تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی؟ نہ خریدنے کی صورت میں اس پر کیا لازم ہوگا؟ یاد رہے کہ طلاق کے ساتھ قسم کھانا اس کی ہر گز عادت نہ تھی لہٰذا اس نے اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار بھی کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس طرح کے کلام کا حکم شوہر کی نیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے ۔ اگر راس کا مقصد اپنے آپ کو اس خریداری پر برانگیختہ کرتا تھا اور بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا مقصود نہ تھا تو اگر وہ چیز نہ بھی خریدے جس کا اس نے طلاق کے ساتھ ذکر کیا تھا تو اہل علم کے صحیح ترین قول کے مطابق یہ طلا ق قسم کے حکم میں ہوگی لہٰذا اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور وہ ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا کہ ہر مسکین کو نصف صاع کھجور وغیرہ یا جو بھی شہر کی خوراک ہو دیا جائے۔ اس کی مقدار تقریباً ڈیڑھ کلو ہے۔ اگر دس مسکینوں کو دوپہر یا شام کا کھانا کھلا دے یا انہیں ایسے کپڑے دے دے جو نماز کیلئے کافی ہوں تو یہ بھی جائز ہے اور اگر اس کی نیت نہ خریدنے کی صورت میں طلاق ہے تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ مومن کوچاہئے کہ اس طرح کے حالات میں لفظ طلاق کے استعمال سے اجتناب کرے کیونکہ بہت سے اہل علم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ اس صورت میں مطلقاً طلاق واقع ہو جاتی ہے اور نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

﴿فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ - ( صحيح بخاري)

’’جو شخص شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین و عزت کو بچا لیا‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ