سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(548) غصے کی حالت میں طلاق کے ساتھ قسم کھا لی

  • 10033
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-16
  • مشاہدات : 671

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غصے کی حالت میں ایک کام نہ کرنے کے سلسلہ میں ‘ میں نے طلاق کے ساتھ قسم کھا لی اور پھر شدید ندامت ہوئی کیونکہ یہ کام تو میرے اور میرے بچوں کی گزر بسر کا ذریعہ ہے تو اس کے بارے میں حکم شریعت کیا ہے؟ جو شخص جنوں کا انکار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا جنبی کے ساتھ نکاح جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ قسم چونکہ بہت شدید غصے کی حالت میں واقع ہوئی ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مقصود اپنے آپ کو اس کام سے روکنا تھا اور قسم اٹھانے والے کا مقصد بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا نہیں تھا۔ لہٰذا میری رائے میں اسے کفارہ قسم ادا کرنا چاہئے اور یہ ہے دس مسکینوں کو درمیانہ درجے کا کھانا کھلانا جو یہ اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہے یا انہیں کپڑے دینا…

اسے یہ کام کرتے رہنا چاہئے جس میں اس کیلئے منفعت کیونکہ جو شخص کسی کام پر قسم کھا لے اور پھر دیکھے کہ کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے توا سے چاہئے کہ قسم کا کفارہ دے دے اور جو کام بہتر ہے‘ اسے کر لے۔

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی طرح جنوں کو بھی اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے اور انہیں فرشتوں اور شیطانوں کی طرح انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل رکھا ہے جیسا کہ ارشاد تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّهُ يَر‌ىٰكُم هُوَ وَقَبيلُهُ مِن حَيثُ لا تَرَ‌ونَهُم...﴿٢٧﴾... سورة الاعراف

’’وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے‘‘۔

یہ جسموں کے بغیر ارواح ہیں جس طرح کہ موت کے بعد جسم سے خارج ہونے والی انسان روح ہوتی ہے۔ ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ شیطان انسانی جسم میں اس طرح گردش کرسکتا ہے جس طرح خون گردش کرتا ہے۔ اسی طرح جن بھی انسان کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور اس پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں کہ کسی انسان نے کسی جن کے ساتھ یا کسی جن نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی ہو۔ قارئین کرام کو اس موضوع پر امام بن تیمیہؒ کے رسالہ ’’ایضاح الدلالۃ‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص521

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ