سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(397) کیا قران اور افرادمنسوخ ہیں؟

  • 8944
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-24
  • مشاہدات : 645

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ حج قران اور افراد منسوخ ہو چکے ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تمتع کا حکم دیا تھا۔ تو جناب کی اس دعوے کے بارے میں کیا رائے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ایک بالکل باطل قول ہے جو ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہے کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ حج کی تین قسمیں ہیں (1) افراد (2) قران (3) تمتع۔ جو شخص حج افراد کی نیت کرتا ہے تو اس کا احرام صحیح ہے، حج بھی صحیح ہے اور اس پر کوئی فدیہ بھی نہیں لیکن اگر وہ اسے فسخ کر کے عمرہ کے لیے خاص کر دے تو علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق یہ افضل ضرور ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حکم دیا تھا جنہوں نے حج افراد یا قران کااحرام باندھا تھا اور ان کے ساتھ قربانیوں کے جانور بھی نہ تھے کہ وہ اپنے اس احرام کو عمرہ کے لیے خاص کر دیں اور طواف و سعی کرنے اور بال کتروانے کے بعد حلال ہو جائیں، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اسی طرح کیا تھا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ حج افراد منسوخ ہو گیا ہے بلکہ یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے افضل و اکمل صورت کی طرف رہنمائی تھی۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب المناسک: ج 2 صفحہ 286

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ