سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(187) ایک ملک کی رؤیت ہلال تمام ممالک کے لیے لازم نہیں ہے

  • 8726
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-18
  • مشاہدات : 774

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رمضان اور شوال کے چاند اسلامی ملکوں میں مختلف دنوں میں نظر آتے ہیں۔ کیا کسی ایک ملک میں چاند نظر آنے پر تمام مسلمانوں کو روزہ رکھنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رؤیت ہلال کے مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی بھی جگہ رمضان کے چاند کی شرعی طریقے سے رؤیت ثابت ہو جائے تو تمام مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو جاتا ہے اور اگر اسی طرح کسی بھی جگہ شوال کے چاند کی رؤیت ثابت ہو جائے تو تمام مسلمانوں کے لیے روزہ چھوڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ امام احمد کے مذہب میں مشہور قول یہی ہے۔ اس قول کے مطابق اگر مثلا سعودی عرب میں چاند نظر آ جائے تو دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ وہ رمضان اور شوال کے احکام اس رؤیت کے مطابق ادا کریں۔ اس سلسلہ میں استدلال حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ...١٨٥﴾... سورة البقرة

’’سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو اسے چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:

(اذا رايتموه فصوموا‘ واذا رايتموه فافطروا) (صحيح البخاري‘ الصوم‘ باب هل يقال رمضان...الخ‘ ح: 1900 وصحيح مسلم‘ الصيام‘ باب وجوب صوم رمضان لروية الهلال...الخ‘ ح: 1080)

’’جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو‘‘ کے عموم سے ہے۔

بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ رمضان کے روزے اور شوال کی عید کے احکام ان لوگوں کے لیے واجب ہوں گے جو خود چاند دیکھ لیں یا چاند دیکھنے والوں کا مطلع ایک ہو، کیونکہ اہل معرفت کا اتفاق ہے کہ ہلال کے مطالع مختلف ہیں لہذا ضروری ہے کہ ہر ملک اپنی رؤیت کے مطابق عمل کرے اور اس رؤیت کے مطابق عمل ان ملکوں کے لیے بھی واجب ہو گا جن کا مطلع اس کے مطابق ہو۔ اور جن ممالک کا مطلع اس کے مطابق نہ ہو گا وہ اس کے تابع نہ ہوں گے۔ یہ قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ کا استدلال بھی اسی آیت اور اسی حدیث ہی سے ہے جس سے پہلے گروہ نے استدلال کیا ہے لیکن وجہ استدلال مختلف ہے اور وہ یہ کہ اس آیت میں حکم کو شاہد اور حدیث میں رائی (دیکھنے والے) کے ساتھ معلق کیا گیا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شاہد اور رائی نہ ہو اس کے لیے حکم لازم نہ ہو گا۔۔۔ اس قول کے مطابق مطالع مختلف ہونے کی صورت میں محض عموم کی وجہ سے احکام ہلال ثابت نہ ہوں گے۔ بلاشبہ استدلال کے اعتبار سے یہی قول قوی ہے اور نظر و قیاس سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب الصیام : ج 2 صفحہ 160

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ