سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(67) تعزیت قبول کرنے کے لیے ایک وقت معین کا مخصوص کرنا

  • 8606
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-17
  • مشاہدات : 649

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اہل میت تعزیت وصول کرنے کے لیے نماز مغرب کے بعد تین دن تک بیٹھتے ہیں۔ کیا یہ (اس طرح بیٹھنا) جائز ہے یا بدعت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موت کی وجہ سے مصیبت زدہ سے تعزیت کرنا شرعا جائز ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں لیکن تعزیت قبول کرنے کے لیے وقت معین اور دن مخصوص کرنا بدعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد) (صحيح مسلم‘ الاقضية‘ باب نقض الاحكام الباطلة ...الخ‘ ح: 1718)

"جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے تو وہ (عمل) مردود ہے۔"

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ