سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(108) کسی بات کے لیے تقدیر کو کہاں تک بنیاد بنایا جا سکتا ہے؟

  • 858
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1193

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لوگوں کی طرف سے کی گئی اس طرح کی بات کے بارے میں کیا حکم ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’اس بات میں تقدیر نے مداخلت کی ہے‘‘ اور ’’اس میں اللہ تعالیٰ کی عنایت نے مداخلت کی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہ بات کہ ’’اس میں تقدیر نے مداخلت کی ہے‘‘ درست نہیں کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس معاملہ میں تقدیر نے مداخلت کر کے زیادتی کی ہے، حالانکہ تقدیر ہی تو اصل ہے، لہٰذا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ تقدیر نے مداخلت کی ہے؟ اس لئے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ قضا وقدر نازل ہوئی ہے یا یہ کہ تقدیر غالب آگئی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ کی عنایت نے مداخلت کی ہے۔‘‘ اس عبارت سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت حاصل ہوگئی ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت کا تقاضا یہ ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ181

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ