السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جمعہ کی طرح عیدین میں بھی دو خطبے اولیٰ و ثانیہ پڑھنا مسنون امر ہے یا صرف عیدین میں ایک ہی خطبہ پر اکتفاء کیا جائے، زید کہتا ہے کہ عیدین میں بھی جمعہ کی طرح دو خطبے ہیں۔ مگر بکر کہتا ہے کہ عیدین میں صرف ایک ہی خطبہ ہے اور دوسرا خطبہ پڑھنا بدعت ہے۔ دونوں کونسا صحیح ہے۔ پہلا قول زید کا کہ عیدین میں جمعہ کی طرح دو خطبے میں۔ اگر صحیح ہے تو اس کی دلیل کتاب و سنت سے تحریر فرما کر ممنون و مشکور فرمائیے؟ بینوا توجروا
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
دو خطبے ہونے چاہئیں حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں۔ السنۃ ان یخطب الامام فی العیدین خطبتین یفصل بینھما۔ جلوس ۔ (دارقطنی)
(اخبار اہل حدیث دہلی جلد ۱ ش۲)