سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(140) ڈاکو توبہ کرنے کے بعد اپنے مال سے زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں ۔

  • 3483
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 594

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص دانستہ حرام روزگار کر رہا ہے، مثلاً سودا ڈاکہ لوگوں کو دھوکہ دے کر پیسہ کما رہا ہے، اور کچھ روپیہ اس نے اس روزگار سے جمع بھی کیا ہے، اگر وہ اب ایسے کاموں سے توبہ کر لے تو کیا اس کا تمام مال حلال ہوجائے گا، وہ اس مال سے حج‘ زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے، اگر نہیں تو وہ اس مال کو کس مد میں خرچ کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 حرام دو قسم پر ہے، ایک کا حصول بالرضا ہوتا ہے، جیسے زنا کی اجرت، جوئے کا نفع وغیرہ، دوسرا بالجبر جیسے چوری ڈاکہ وغیرہ، پہلی قسم کے متعلق بعض علماء کا عقیدہ ہے کہ توبہ کے بعد حلال ہو جاتا ہے، اور دوسری قسم کے متعلق نہیں، اس کو یا تو اصل مالکوں تک پہنچائے، اگر یہ محال یا مشکل ہو تو ان کی طرف سے کسی کار خیر میں لگا دے، لیکن یہ وصیت لکھ کر رکھے کہ فلاں فلاں اشخاص جن کا یہ مال ہے، اگر آ جائیں، تو میرے وارث ان کو ادا کر دیں۔ (اہل حدیث ۴ مئی: ۴۵ھ)
شرفیہ:… پہلی قسم کے متعلق بعض علماء کا عقیدہ بالکل باطل ہے، قطعاً حرام ہے، حلت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی) (فتاویٰ ثنائیہ جلد ص ۴۷۱)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاوی علمائے حدیث

جلد 7 ص 271۔272

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ