السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آج سلامی کا رواج عام ہے مکان کا مالک کرایہ داروں سے ہزار دو ہزار روپے پہلے وصول کر لیتا ہے۔اور بعد میں ستر اسی روپے ماہوار کرایہ مکان دیتا ہے۔جو روپے سلامی کے طور پر پہلے وصول کر لیتا ہے۔اس کا کرایہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سلامی کا روپیہ شرعا جائز ہے یانہیں؟(عبد الحکم قصوری جامع اہل حدیث رنگون)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس قسم کا سود ناجائز ہے کیونکہ یہ رشو ت کے حکم میں آتا ہے۔
(فتاوی ثنایئہ جلد2 ص 456)
توضیح البیان ۔
عرف عام میں آجکل اس کو پگڑی کہتے ہیں۔جو جانائز ہے۔(سعیدی)