آپ کہتے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جبکہ بخاری شریف میں حدیث ہے… حمران بن ابان سے سنا وہ معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے اس سے منع کیا۔ یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے۔[بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ]
انہوں نے نہیں دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ رہا آپ کا عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع فرمانا تو وہ درست ہے، لیکن اس منع والی حدیث سے جو نمازیں آپ نے عصر کے بعد پڑھیں یا ان کے پڑھنے کی اجازت دی وہ اس حدیث سے مستثنیٰ ہیں منع نہیں۔ تفصیل کے لیے اس فقیر إلی اللہ الغنی کے رسالہ ’’ تعداد رکعات ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔